سائلین کی سہولت کے لیے آئینی عدالت کا بڑا اقدام، چاروں صوبوں میں آئینی ڈیسک قائم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے وکلا اور سائلین کی سہولت کے لیے ایک اہم انتظامی قدم اٹھاتے ہوئے چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں میں آئینی ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاکہ مقدمات کے اندراج اور درخواستوں کی وصولی میں آسانی پیدا کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام مقدمات، درخواستیں، اپیلیں اور دیگر قانونی امور اب اسلام آباد کے علاوہ صوبائی ہیڈکوارٹرز میں قائم آئینی ڈیسکوں پر بھی جمع کرائے جا سکیں گے۔
سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں قائم کیے گئے یہ آئینی ڈیسک تاحکمِ ثانی کام کرتے رہیں گے، جہاں سائلین اور وکلاء اپنی درخواستیں اور کیسز جمع کرا سکتے ہیں۔
آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دور دراز علاقوں سے آنے والے وکلا اور سائلین کو اسلام آباد سفر کی زحمت سے بچانا اور عدالتی نظام تک رسائی کو مزید آسان بنانا ہے۔
یہ سرکلر وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے، جب کہ تمام متعلقہ اداروں، بار کونسلز اور اعلیٰ عدالتوں کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت صوبائی ڈیسک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت صوبائی ڈیسک آئینی عدالت آئینی ڈیسک
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔