WE News:
2026-07-24@01:51:17 GMT

آگ، لاپرواہی اور خاموش ریاست

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

آگ، لاپرواہی اور خاموش ریاست

گُل پلازہ کراچی میں لگنے والی ہولناک آگ محض ایک عمارت کو نہیں جلا گئی، بلکہ اس نے پاکستان میں ریاستی نگرانی، شہری تحفظ اور حکمرانی کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا، بلکہ برسوں کی غفلت، غیر قانونی تعمیرات، کمزور قوانین اور مجرمانہ خاموشی کا منطقی نتیجہ تھا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں روزانہ لاکھوں افراد کمرشل پلازوں، دفاتر اور مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں، گُل پلازہ ایک معروف تجارتی مرکز تھا۔ اس عمارت میں سینکڑوں دکانیں، درجنوں دفاتر اور بڑی تعداد میں ورکرز موجود تھے۔ آگ بھڑکنے کے بعد لوگوں کو بچنے کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ عمارت میں نہ مؤثر فائر الارم تھا، نہ خودکار سپرنکلر سسٹم، اور نہ ہی واضح و کھلے ایمرجنسی ایگزٹس۔ چند ہی لمحوں میں دھواں پھیل گیا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی چلی گئیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی، بلکہ یہ ہے کہ اتنی بڑی عمارت کو بغیر فائر سیفٹی انتظامات کے چلنے کی اجازت کس نے دی؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میونسپل کارپوریشن، سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا، اور اگر قوانین ناکافی تھے تو انہیں بروقت بہتر کیوں نہ بنایا گیا؟

یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جو قانون، نظم و ضبط اور ریاستی رِٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے، خود ایک خاموش خطرے کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ریڈ زون اور بلیو ایریا میں قائم بلند و بالا پلازے، سرکاری و نجی دفاتر، کالجز اور تعلیمی ادارے روزانہ ہزاروں افراد کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، مگر ان عمارتوں میں فائر ایگزٹس، ایمرجنسی سیڑھیاں، فائر الارم اور ریسکیو پلان اکثر صرف فائلوں تک محدود نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دارالحکومت ہی محفوظ نہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

گُل پلازہ کے سانحے کے بعد سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تاحال کوئی ٹھوس اور بنیادی اقدام سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی جامع قومی فائر سیفٹی قانون نافذ ہوا، نہ ملک گیر سطح پر عمارتوں کا آڈٹ شروع کیا گیا، اور نہ ہی ذمہ داروں کو مثال بنا کر سزا دی گئی۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ماضی میں بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات کے بعد بھی دیکھا گیا — چند دن کا شور، چند وعدے، اور پھر اجتماعی فراموشی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جذباتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ ہر کمرشل، تعلیمی اور بلند رہائشی عمارت کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔ قومی سطح پر فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو سیل کیا جائے، اور ذمہ دار افسران کے خلاف محض معطلی نہیں بلکہ فوجداری کارروائی کی جائے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو جدید آلات، مؤثر تربیت اور فوری رسپانس کی صلاحیت دی جائے، جبکہ عوامی سطح پر فائر ڈرلز اور بنیادی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔

گُل پلازہ کے متاثرین محض اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ مزدور تھے، دکاندار تھے، طلبہ تھے اور اپنے خاندانوں کے کفیل تھے۔ اگر اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو یہ سانحات بار بار دہراتے رہیں گے، اور ہم ہر بار ایک نئی خبر، ایک نیا کالم اور ایک نئی قبر کے ساتھ خود کو تسلی دیتے رہیں گے۔

سوال آج بھی وہی ہے:
آخر کب تک معصوم انسانی جانوں کا یہ ضیاع جاری رہے گا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انعم ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فائر سیفٹی گ ل پلازہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف