WE News:
2026-06-02@23:55:04 GMT

آگ، لاپرواہی اور خاموش ریاست

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

آگ، لاپرواہی اور خاموش ریاست

گُل پلازہ کراچی میں لگنے والی ہولناک آگ محض ایک عمارت کو نہیں جلا گئی، بلکہ اس نے پاکستان میں ریاستی نگرانی، شہری تحفظ اور حکمرانی کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا، بلکہ برسوں کی غفلت، غیر قانونی تعمیرات، کمزور قوانین اور مجرمانہ خاموشی کا منطقی نتیجہ تھا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں روزانہ لاکھوں افراد کمرشل پلازوں، دفاتر اور مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں، گُل پلازہ ایک معروف تجارتی مرکز تھا۔ اس عمارت میں سینکڑوں دکانیں، درجنوں دفاتر اور بڑی تعداد میں ورکرز موجود تھے۔ آگ بھڑکنے کے بعد لوگوں کو بچنے کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ عمارت میں نہ مؤثر فائر الارم تھا، نہ خودکار سپرنکلر سسٹم، اور نہ ہی واضح و کھلے ایمرجنسی ایگزٹس۔ چند ہی لمحوں میں دھواں پھیل گیا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی چلی گئیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی، بلکہ یہ ہے کہ اتنی بڑی عمارت کو بغیر فائر سیفٹی انتظامات کے چلنے کی اجازت کس نے دی؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میونسپل کارپوریشن، سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا، اور اگر قوانین ناکافی تھے تو انہیں بروقت بہتر کیوں نہ بنایا گیا؟

یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جو قانون، نظم و ضبط اور ریاستی رِٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے، خود ایک خاموش خطرے کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ریڈ زون اور بلیو ایریا میں قائم بلند و بالا پلازے، سرکاری و نجی دفاتر، کالجز اور تعلیمی ادارے روزانہ ہزاروں افراد کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، مگر ان عمارتوں میں فائر ایگزٹس، ایمرجنسی سیڑھیاں، فائر الارم اور ریسکیو پلان اکثر صرف فائلوں تک محدود نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دارالحکومت ہی محفوظ نہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

گُل پلازہ کے سانحے کے بعد سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تاحال کوئی ٹھوس اور بنیادی اقدام سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی جامع قومی فائر سیفٹی قانون نافذ ہوا، نہ ملک گیر سطح پر عمارتوں کا آڈٹ شروع کیا گیا، اور نہ ہی ذمہ داروں کو مثال بنا کر سزا دی گئی۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ماضی میں بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات کے بعد بھی دیکھا گیا — چند دن کا شور، چند وعدے، اور پھر اجتماعی فراموشی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جذباتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ ہر کمرشل، تعلیمی اور بلند رہائشی عمارت کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔ قومی سطح پر فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو سیل کیا جائے، اور ذمہ دار افسران کے خلاف محض معطلی نہیں بلکہ فوجداری کارروائی کی جائے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو جدید آلات، مؤثر تربیت اور فوری رسپانس کی صلاحیت دی جائے، جبکہ عوامی سطح پر فائر ڈرلز اور بنیادی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔

گُل پلازہ کے متاثرین محض اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ مزدور تھے، دکاندار تھے، طلبہ تھے اور اپنے خاندانوں کے کفیل تھے۔ اگر اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو یہ سانحات بار بار دہراتے رہیں گے، اور ہم ہر بار ایک نئی خبر، ایک نیا کالم اور ایک نئی قبر کے ساتھ خود کو تسلی دیتے رہیں گے۔

سوال آج بھی وہی ہے:
آخر کب تک معصوم انسانی جانوں کا یہ ضیاع جاری رہے گا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انعم ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فائر سیفٹی گ ل پلازہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا