Jasarat News:
2026-07-24@06:48:03 GMT

مظلوموں کی آہوں سے بچو

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-03-9
اے ابن آدم کراچی کو لاوارث بنانے والے اللہ کے عذاب سے تم بھی نہیں بچو گے، کراچی والوں کا کام کیا لاشیں اُٹھانا رہ گیا، کبھی بھتا نہ دینے پر گولی مار دی جاتی ہے تو کبھی ظالم ٹرالر مار دیتا ہے، کوئی پرسان حال نہیں، اتنے بڑے بڑے حادثات ہونے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا اور ایک اور حادثہ رونما ہوگیا۔ گل پلازہ کی ظالم آگ نے 86 لوگوں کی زندگی کے چراغوں کو گل کردیا۔ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔ ایک دکاندار جو پلازہ میں پھنسا ہوا تھا اُس نے آخری پیغام یہ دیا کہ غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا، اس بیچارے کی کیا غلطی، غلطی تو ہے اداروں کی کہ جن کی نااہلی کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئیں، سینئر رپورٹر مرتضیٰ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے میں اس رپورٹ پر بات کروں میں آپ لوگوں کو ماضی میں آگ لگنے والے واقعات یاد کراتا ہوں۔ 2016ء میں پہلی بار گل پلازہ میں خوفناک آگ لگ چکی تھی۔ 2022ء میں حفیظ سینٹر میں آگ لگی۔ 2021ء میں چائولہ مارکیٹ میں آگ لگی۔ جون 2022ء میں Chase up میں آگ لگی۔ 2022ء میں صدر کی مارکیٹ میں آگ لگی جس میں میرے بھی کپڑے جل گئے تھے۔ 2024ء میں رمپا پلازہ میں آگ لگی۔ 2024ء گلستان جوہر کی فرنیچر مارکیٹ جل کر خاک ہوگئی۔ 25 نومبر 2023ء آر جے مال میں خطرناک آگ لگی۔ جون 2025ء میں ملینیم مال میں آگ لگی۔ 18 فروری 2025ء کو کلفٹن شاپنگ سینٹر میں آگ لگی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں آگ لگی۔ بلدیہ کی فیکٹری کی آگ تو کوئی نہیں بھول سکتا اور پھر ایک قیامت ٹوٹی 17 اور 18 جنوری کی درمیانی رات ایک بار پھر گل پلازہ میں آگ لگی جس نے پوری عمارت کو زمین بوس کردیا۔

کراچی کے ذمے داران جائے حادثہ پر دیر سے پہنچے، کچھ کو تو عوام نے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جس کو دیکھو وہ ایک نئی کہانی سنا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے ہر حادثے کے بعد کرکے چلے جاتے ہیں۔ مرنے والوں کے لیے ایک کروڑ اور دکانداروں کے لیے دوبارہ ان کے کاروبار کو سیٹ کرنے کا اعلان کیا۔ گورنر سندھ نے پانی اور کھانے دینے کا اعلان کیا۔ یہ ڈرامے بازی تو عوام برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس حادثے نے کئی سوالات بلند کیے ہیں۔ سب سے پہلے حکمران سندھ کے بادشاہ اور ان کے حواری فرماتے ہیں سیاست نہ کریں، بچے گٹر میں گر جائیں سوال نہ کرو، آگ لگ جائے سوال نہ کرو، ڈمپر مار دے سوال نہ کرو، جو کرنا ہے ہم کریں گے کیونکہ ہم تو سائیں سرکار ہیں اور تمہارے لیڈر تو ہم نے خرید لیے ہیں۔ لہٰذا کراچی کا مال ہم دونوں مل کر ہی کھائیں گے۔ ایک پیپلز پارٹی کے جیالے لیڈر فرماتے ہیں یہ آگ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا کارنامہ ہے، شرم بھی نہیں آتی ان کو جب ان پر سوالات اُٹھتے ہیں تو ان کو بس جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نظر آتی ہے۔ ارے میرے جیالے لیڈر تم نے سب کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے یہ سب تمہارے اپنے اداروں کی نااہلی ہے جن میں تم نے نااہل افسران کی فوج بھرتی کررکھی ہے۔ ان افسران کو مال کمانے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا مگر تم کو شرم تو آتی نہیں یہ رپورٹ دیکھ لو!

ایک بڑے اخبار کے ایماندار صحافی کی خبر ہے کہ آگ کے ذمے داروں میں گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن، الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 32 پی آر ون ڈسٹرکٹ سائوتھ گل پلازہ گرائونڈ پلس بیس

منٹ پلس تھری فلور کا ریگولرائزیشن پلان 14 اپریل 2003ء کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منظور کرکے دیا۔ منظور شدہ پلان کے مطابق بیسٹمنٹ میں 174 دکانیں، گرائونڈ پر 405 دکانیں، پہلی منزل پر 175 دکانیں، دوسری منزل پر 175 اور تیسری منزل پر 134 دکانیں، مجموعی تعداد 1021 بنتی ہے۔ تکمیل کے بعد گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کی ذمے داری شروع ہوگئی، یہ ایسوسی ایشن ہر دکان سے ماہانہ 5500 ہزار لیتی ہے جو ماہانہ 66 لاکھ اور سالانہ تقریباً 8 کروڑ روپے بنتے ہیں تو پھر گل پلازہ کی ہر دکان میں فائر فائٹنگ سسٹم کیوں نصب نہیں تھا؟ آگ بجھانے والا سلنڈر اور مٹی کی بالٹیاں کیوں نہیں رکھی گئیں۔ مارکیٹ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے راستوں پر دکانیں بڑھانے اور کائونٹر لگانے کی اجازت دے کر باہر نکلنے کے راستے کس کے حکم پر تنگ ہوئے۔ ایک کی دو دکانیں بنانے والوں کی شکایت ایس بی سی اے میں کیوں نہیں کی گئی۔ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگنے والی آگ کو فائر فائٹنگ سسٹم کے ذریعے فوراً بجھا دیا جاتا تو 86 افراد کی جان نہیں جاتی۔ گل پلازہ کی تقریباً 25 فی صد دکانیں جلنے کی وجہ سے بلڈنگ گر گئی تو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس نقصان کے ذمے داروں میں دوسرا نام الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق بتایا کہ سول ڈیفنس کی ذمے داری ہے کہ وہ شہر کی ایسی بلڈنگز جن کی نشاندہی کچھ عرصے قبل ایس بی سی اے نے انہیں کی تھی وہاں فائر فائٹنگ سسٹم نصب کرائیں اور آگ لگ جانے کی صورت میں آگے آئیں، لوگوں کو آگ سے بچائیں۔ طبی امداد دیں اور آگ میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالیں جیسا کہ کچھ دن قبل سول ڈیفنس کے ایک پروگرام میں وفاقی وزیر محسن نقوی کو دکھایا اور بتایا گیا فائر بریگیڈ کی ناکامی کی وجہ بھی کرپشن ہے، فائر مین کی آگ سے حفاظت کا سامان صرف کاغذوں میں خریدا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فائرمین کو اگر پوری حفاظتی کٹ دی ہوتی تو فائر مین کی جانچ بچ سکتی تھی پھر تقریباً ایک میل دور فائر اسٹیشن سے گل پلازہ آنے میں کتنی دیر لگتی ہے یہ سب جانتے ہیں ایک اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں دہشت گردی نظر نہیں آرہی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گل پلازہ کا ہنگامی دورہ کیا انہوں نے کہا کہ اہل کراچی کے سنگین مسائل کے ذمے دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں ان کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور وہ خود اس شہر کو لا وارث اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ خود گلی گلی اور محلوں میں جا کر عوام کی قوت کو جمع کریں گے۔ وزیراعظم شادی سے فارغ ہوں تو آکر کراچی کا حال دیکھیں۔ پی ایم ڈی اے اور این ڈی ایم اے کہاں ہیں، پاکستان کے عوام کے فنڈز سے یہ ادارے چلتے ہیں کوئی ہیلی کاپٹر سروس موجود نہیں کوئی تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں تھا۔ الخدمت، سیلانی، چھیپا، ایدھی اور دیگر NGO’s اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام کررہے تھے۔ اسنارکل کیوں کام نہیں کررہی، پانی کیوں دستیاب نہیں تھا گاڑیوں کے لیے ڈیزل کیوں دستیاب نہیں تھا، کیمیکل کیوں دستیاب نہیں تھا، جو کام ریاست کے کرنے کے ہیں وہ عوام خود کررہے ہیں، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ آخر میں ایک اہم بات ابن آدم کے قلم سے آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفی سہولت موجود نہیں ہے لو کر لو بات! اب مزید حادثات کے لیے عوام کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

شجاع صغیر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن ایس بی سی اے میں ا گ لگی موجود نہیں پلازہ میں سول ڈیفنس گل پلازہ نہیں تھا کے ذمے کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن