Jasarat News:
2026-06-02@22:20:38 GMT

مظلوموں کی آہوں سے بچو

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-03-9
اے ابن آدم کراچی کو لاوارث بنانے والے اللہ کے عذاب سے تم بھی نہیں بچو گے، کراچی والوں کا کام کیا لاشیں اُٹھانا رہ گیا، کبھی بھتا نہ دینے پر گولی مار دی جاتی ہے تو کبھی ظالم ٹرالر مار دیتا ہے، کوئی پرسان حال نہیں، اتنے بڑے بڑے حادثات ہونے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا اور ایک اور حادثہ رونما ہوگیا۔ گل پلازہ کی ظالم آگ نے 86 لوگوں کی زندگی کے چراغوں کو گل کردیا۔ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔ ایک دکاندار جو پلازہ میں پھنسا ہوا تھا اُس نے آخری پیغام یہ دیا کہ غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا، اس بیچارے کی کیا غلطی، غلطی تو ہے اداروں کی کہ جن کی نااہلی کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئیں، سینئر رپورٹر مرتضیٰ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے میں اس رپورٹ پر بات کروں میں آپ لوگوں کو ماضی میں آگ لگنے والے واقعات یاد کراتا ہوں۔ 2016ء میں پہلی بار گل پلازہ میں خوفناک آگ لگ چکی تھی۔ 2022ء میں حفیظ سینٹر میں آگ لگی۔ 2021ء میں چائولہ مارکیٹ میں آگ لگی۔ جون 2022ء میں Chase up میں آگ لگی۔ 2022ء میں صدر کی مارکیٹ میں آگ لگی جس میں میرے بھی کپڑے جل گئے تھے۔ 2024ء میں رمپا پلازہ میں آگ لگی۔ 2024ء گلستان جوہر کی فرنیچر مارکیٹ جل کر خاک ہوگئی۔ 25 نومبر 2023ء آر جے مال میں خطرناک آگ لگی۔ جون 2025ء میں ملینیم مال میں آگ لگی۔ 18 فروری 2025ء کو کلفٹن شاپنگ سینٹر میں آگ لگی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں آگ لگی۔ بلدیہ کی فیکٹری کی آگ تو کوئی نہیں بھول سکتا اور پھر ایک قیامت ٹوٹی 17 اور 18 جنوری کی درمیانی رات ایک بار پھر گل پلازہ میں آگ لگی جس نے پوری عمارت کو زمین بوس کردیا۔

کراچی کے ذمے داران جائے حادثہ پر دیر سے پہنچے، کچھ کو تو عوام نے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جس کو دیکھو وہ ایک نئی کہانی سنا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے ہر حادثے کے بعد کرکے چلے جاتے ہیں۔ مرنے والوں کے لیے ایک کروڑ اور دکانداروں کے لیے دوبارہ ان کے کاروبار کو سیٹ کرنے کا اعلان کیا۔ گورنر سندھ نے پانی اور کھانے دینے کا اعلان کیا۔ یہ ڈرامے بازی تو عوام برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس حادثے نے کئی سوالات بلند کیے ہیں۔ سب سے پہلے حکمران سندھ کے بادشاہ اور ان کے حواری فرماتے ہیں سیاست نہ کریں، بچے گٹر میں گر جائیں سوال نہ کرو، آگ لگ جائے سوال نہ کرو، ڈمپر مار دے سوال نہ کرو، جو کرنا ہے ہم کریں گے کیونکہ ہم تو سائیں سرکار ہیں اور تمہارے لیڈر تو ہم نے خرید لیے ہیں۔ لہٰذا کراچی کا مال ہم دونوں مل کر ہی کھائیں گے۔ ایک پیپلز پارٹی کے جیالے لیڈر فرماتے ہیں یہ آگ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا کارنامہ ہے، شرم بھی نہیں آتی ان کو جب ان پر سوالات اُٹھتے ہیں تو ان کو بس جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نظر آتی ہے۔ ارے میرے جیالے لیڈر تم نے سب کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے یہ سب تمہارے اپنے اداروں کی نااہلی ہے جن میں تم نے نااہل افسران کی فوج بھرتی کررکھی ہے۔ ان افسران کو مال کمانے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا مگر تم کو شرم تو آتی نہیں یہ رپورٹ دیکھ لو!

ایک بڑے اخبار کے ایماندار صحافی کی خبر ہے کہ آگ کے ذمے داروں میں گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن، الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 32 پی آر ون ڈسٹرکٹ سائوتھ گل پلازہ گرائونڈ پلس بیس

منٹ پلس تھری فلور کا ریگولرائزیشن پلان 14 اپریل 2003ء کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منظور کرکے دیا۔ منظور شدہ پلان کے مطابق بیسٹمنٹ میں 174 دکانیں، گرائونڈ پر 405 دکانیں، پہلی منزل پر 175 دکانیں، دوسری منزل پر 175 اور تیسری منزل پر 134 دکانیں، مجموعی تعداد 1021 بنتی ہے۔ تکمیل کے بعد گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کی ذمے داری شروع ہوگئی، یہ ایسوسی ایشن ہر دکان سے ماہانہ 5500 ہزار لیتی ہے جو ماہانہ 66 لاکھ اور سالانہ تقریباً 8 کروڑ روپے بنتے ہیں تو پھر گل پلازہ کی ہر دکان میں فائر فائٹنگ سسٹم کیوں نصب نہیں تھا؟ آگ بجھانے والا سلنڈر اور مٹی کی بالٹیاں کیوں نہیں رکھی گئیں۔ مارکیٹ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے راستوں پر دکانیں بڑھانے اور کائونٹر لگانے کی اجازت دے کر باہر نکلنے کے راستے کس کے حکم پر تنگ ہوئے۔ ایک کی دو دکانیں بنانے والوں کی شکایت ایس بی سی اے میں کیوں نہیں کی گئی۔ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگنے والی آگ کو فائر فائٹنگ سسٹم کے ذریعے فوراً بجھا دیا جاتا تو 86 افراد کی جان نہیں جاتی۔ گل پلازہ کی تقریباً 25 فی صد دکانیں جلنے کی وجہ سے بلڈنگ گر گئی تو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس نقصان کے ذمے داروں میں دوسرا نام الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق بتایا کہ سول ڈیفنس کی ذمے داری ہے کہ وہ شہر کی ایسی بلڈنگز جن کی نشاندہی کچھ عرصے قبل ایس بی سی اے نے انہیں کی تھی وہاں فائر فائٹنگ سسٹم نصب کرائیں اور آگ لگ جانے کی صورت میں آگے آئیں، لوگوں کو آگ سے بچائیں۔ طبی امداد دیں اور آگ میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالیں جیسا کہ کچھ دن قبل سول ڈیفنس کے ایک پروگرام میں وفاقی وزیر محسن نقوی کو دکھایا اور بتایا گیا فائر بریگیڈ کی ناکامی کی وجہ بھی کرپشن ہے، فائر مین کی آگ سے حفاظت کا سامان صرف کاغذوں میں خریدا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فائرمین کو اگر پوری حفاظتی کٹ دی ہوتی تو فائر مین کی جانچ بچ سکتی تھی پھر تقریباً ایک میل دور فائر اسٹیشن سے گل پلازہ آنے میں کتنی دیر لگتی ہے یہ سب جانتے ہیں ایک اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں دہشت گردی نظر نہیں آرہی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گل پلازہ کا ہنگامی دورہ کیا انہوں نے کہا کہ اہل کراچی کے سنگین مسائل کے ذمے دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں ان کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور وہ خود اس شہر کو لا وارث اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ خود گلی گلی اور محلوں میں جا کر عوام کی قوت کو جمع کریں گے۔ وزیراعظم شادی سے فارغ ہوں تو آکر کراچی کا حال دیکھیں۔ پی ایم ڈی اے اور این ڈی ایم اے کہاں ہیں، پاکستان کے عوام کے فنڈز سے یہ ادارے چلتے ہیں کوئی ہیلی کاپٹر سروس موجود نہیں کوئی تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں تھا۔ الخدمت، سیلانی، چھیپا، ایدھی اور دیگر NGO’s اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام کررہے تھے۔ اسنارکل کیوں کام نہیں کررہی، پانی کیوں دستیاب نہیں تھا گاڑیوں کے لیے ڈیزل کیوں دستیاب نہیں تھا، کیمیکل کیوں دستیاب نہیں تھا، جو کام ریاست کے کرنے کے ہیں وہ عوام خود کررہے ہیں، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ آخر میں ایک اہم بات ابن آدم کے قلم سے آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفی سہولت موجود نہیں ہے لو کر لو بات! اب مزید حادثات کے لیے عوام کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

شجاع صغیر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن ایس بی سی اے میں ا گ لگی موجود نہیں پلازہ میں سول ڈیفنس گل پلازہ نہیں تھا کے ذمے کے لیے

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود