سابق نگراں وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کسی ایک فرد، ایک حکومت یا کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ لڑائی ہے اور اس جنگ کو اجتماعی شعور، واضح قومی بیانیے اور مربوط حکمت عملی کے بغیر جیتنا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں شناخت کی بنیاد پر قتل کیوں ہورہے ہیں؟ انوار الحق کاکڑ کا وی نیوز کو خصوصی انٹرویو

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ دشمنی کسی صوبے یا کسی زبان یا کسی قومیت سے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان اور اس کی فیڈریشن کے ساتھ ہے اس لیے اس خطرے کو قومی وجودی خطرے کے طور پر دیکھنا اور اسی سطح کا ردِعمل دینا ہوگا۔

انوارالحق کاکڑ نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرغون روڈ تک دہشتگردوں کا پہنچ جانا ایک علامتی اقدام تھا جس کا مقصد ریاستی رِٹ اور ریاستی علامتوں کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم انہوں نے پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روک دیا جو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق اگر دہشتگرد ریڈ زون کے اندر داخل ہو جاتے تو نقصان کی نوعیت کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی تھی۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں اور یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی مرکز کے قریب حملے کی کوشش کی گئی ہو۔ ان کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں ریاستی علامتوں کو اپنی ’ٹرافی‘ سمجھتی ہیں اور اسے اپنی بڑی کامیابی تصور کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فیاض سمبال شہید چوک اور زیرو پوائنٹ جیسے مقامات ماضی میں بھی دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک طویل اور منظم گوریلا جنگ کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیے: بلوچستان کا مسئلہ محرومی نہیں شناخت ہے، بطور وزیراعظم فوج میری بات سنتی اور مانتی تھی، انوارالحق کاکڑ

177  دہشتگردوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک بڑا عدد ضرور ہے تاہم اس بنیاد پر یہ سمجھ لینا کہ دہشتگردی ختم ہو گئی ہے سادہ لوحی ہوگی۔
ان کے مطابق گوریلا جنگ کی نوعیت مختلف ہوتی ہے یہ نہ اچانک شروع ہوتی ہے اور نہ ہی اچانک ختم ہوتی ہے۔ یہ جنگ مہینوں، سالوں بلکہ دہائیوں پر محیط ہو سکتی ہے اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دہشتگردی ختم ہو گئی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت اس جنگ کے کس مرحلے میں کھڑا ہے اور اس کا مؤثر جواب کیا ہونا چاہیے۔

انوارالحق کاکڑ نے زور دیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست کو ایک واضح گرینڈ ویژن درکار ہے جس میں فورس کے استعمال، سیاسی مکالمے، انتظامی اصلاحات اور فکری سطح پر بیانیہ سازی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ صرف طاقت کا استعمال یا صرف مذاکرات دونوں میں سے کوئی ایک راستہ کافی نہیں بلکہ ایک ملٹی پرانگ اور ہمہ گیر نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔

بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازعے میں 2 فریق ہیں ایک ریاست پاکستان اور دوسرا مسلح دہشتگرد گروہ اب ریاست کے کردار اور پالیسیوں پر تنقید اور احتساب ضرور ہونا چاہیے لیکن دہشتگرد تنظیموں کے بیانیے اور ان کے طرزعمل کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

ان کے مطابق دہشتگرد گروہ خود واضح طور پر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اپنی شدت، سفاکی اور حملوں کی شدت میں اضافہ کریں گے تاکہ ریاستِ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں شناختی سیاست کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں جہاں زبان، نسل اور علاقے کی بنیاد پر برتری اور محرومی کا بیانیہ گھڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیانیے کو رومانوی انداز میں پیش کر کے نوجوانوں کو جذباتی طور پر راغب کیا جاتا ہے تاکہ وہ تشدد کو جائز سمجھنے لگیں۔

انوارالحق کاکڑ نے واضح کیا کہ محرومی کا بیانیہ حقیقت کا مکمل عکس نہیں بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’انوارالحق کاکڑ کا بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف بیان مزید بے چینی پیدا کرے گا‘

انہوں نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 1947 کے بعد سے صوبے میں تعلیمی اداروں، کالجز، یونیورسٹیوں، سڑکوں اور اسپتالوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مزید ترقی کی ضرورت نہیں۔

ان کے مطابق نیشن بلڈنگ ایک جاری عمل ہے اور اس میں معیار کو بہتر بنانے کی مسلسل ضرورت رہتی ہے مگر ترقی کی کمی کو عام شہریوں، اساتذہ یا مزدوروں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

نیشنل ایکشن پلان پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے اس کے کئی اہم نکات پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بات چیت کو واحد حل قرار دیا گیا تھا تو پھر یہ بات چیت کس سے، کب اور کن نتائج کے ساتھ ہوئی؟ ان کے مطابق طاقت کے استعمال اور سیاسی مکالمے دونوں کو واضح فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا ضروری ہے ورنہ ابہام ریاستی ردِعمل کو کمزور کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نگراں دور کی پالیسیوں پر عملدرآمد کیا جائے، آئی ایم ایف کی انوارالحق کاکڑ کے اقدامات کی تعریف

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے لیے فکری، نظریاتی اور سیاسی سطح پر بھی قوم کو تیار کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ ذمہ داری صرف سیکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی ہے کہ وہ واضح قومی بیانیہ تشکیل دیں اور عوام کو اعتماد میں لیں۔

مزید پڑھیں: کیا میں نیتن یاہو ہوں، انوارالحق کاکڑ نے یہ سوال کِس سے اور کیوں کیا؟

آخر میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر قوم نے اس خطرے کو اجتماعی جنگ نہ سمجھا تو ردِعمل بکھرا رہے گا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم اسے اپنی جنگ سمجھے، یکجہتی دکھائے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان دہشتگردی سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگردی سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کوئٹہ سابق وزیراعظم نے کہا کہ انوارالحق کاکڑ نے بلوچستان میں کہ دہشتگردی دہشتگردی کے ان کے مطابق کہ دہشتگرد کرتے ہوئے نہیں بلکہ انہوں نے کے خلاف ہیں کہ ہے اور اور اس

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار