ٹی 20 ورلڈ کپ: بھارت سے میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی پریشان، پاکستان کو منانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں ہلچل مچ گئی ہے، پاکستان کے اس فیصلے نے عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی کو پریشان کر دیا اور آئی سی سی اب پاکستان کو قائل کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی حکام پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے بھارتی میچ کے بائیکاٹ کے حوالے سے باضابطہ کمیونیکیشن کے منتظر ہیں تاکہ صورتحال کی واضح سمت حاصل کی جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے معاملے کو سنبھالنے کے لیے بیک چینل بات چیت کی حکمت عملی اپنائی ہے، اس مقصد کے لیے آئی سی سی نے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پی سی بی کے حکام سے رابطہ کریں اور کھیل کے انعقاد پر پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو موجودہ صورتِ حال میں “پلے دی پیس میکر” کا کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم پی سی بی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے اعلان کے بعد بورڈ کی جانب سے دوبارہ کوئی موقف دینے کی ضرورت نہیں، بھارت نے بھی چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاکستان آنے کی اجازت نہ ملنے کا حکومتی خط آئی سی سی کونسل میں پیش نہیں کیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اتوار، 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے آئی سی سی کو اب تک باضابطہ طور پر اپنے پلیٹ فارم سے آگاہ کرنے کی کارروائی مکمل نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے عالمی کرکٹ کے حکام کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔