پانچویں انٹرلوپ وہیل چیئر قائد اعظم کرکٹ ٹرافی کا 11 فروری سے آغاز
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پانچویں انٹرلوپ قائد اعظم کرکٹ ٹرافی 2026 کا آغاز 11 فروری سے فیصل آباد میں ہوگا ۔
پاکستان وہیل چیئر کرکٹ کونسل کے زیر انتظام ملک کے سب سے بڑے ڈومیسٹک ایونٹ میں چھ ٹیمیں شرکت کریں گی جن میں سندھ، پنجاب، بلوچستان، کے پی کے ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ گلگت بلتستان کی ٹیم ایونٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔
ٹی 20 فارمیٹ پر کھیلے جانے والے ایونٹ میں ملک بھر سے قومی اور بین الاقوامی وہیل چیئر کرکٹرز شرکت کررہے ہیں ۔ قائد اعظم ٹرافی میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھرپور موقع فراہم کیا گیا ہے۔
ملک میں وہیل چیئر کرکٹ کے فروغ اور عنقریب منعقد ہونے والے تیسرے ٹی 20 ایشیا کپ جو کہ پاکستان کی میزبانی میں کراچی اور حیدرآباد میں میچز کا انعقاد ہوگا انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مجموعی طور پر دس میچز کھیلے جائینگے فائنل میچ ڈے اینڈ نائٹ ہوگا جس کا انعقاد 52 فروری کو بوہڑاں والی گراؤنڈ میں ہوگا۔
ٹرافی کی رونمائی کی تقریب 10 فروری کو فیصل آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوگی جس میں کھلاڑیوں اور معززین اور سابقہ اور موجودہ کرکٹرز شرکت کرینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وہیل چیئر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔