سابق انگلینڈ کرکٹر مارک بوچر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیل کر ایک ذہین حکمت عملی اپنائی۔ بوچر کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے مالی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے اور اس سے بھارت کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

بوچر نے یہ بات ’سٹک ٹو کرکٹ‘ پوڈ کاسٹ میں کہی، جس میں ڈیوڈ لائیڈ، مائیکل ووگن، فل ٹفنل اور السٹیر کک بھی موجود تھے۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاملے میں مختلف رویوں پر تنقید بھی کی۔

بوچر کے مطابق پاکستان نے واقعی زبردست چال کھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹورنامنٹ میں شامل رہنا چاہتے ہیں، لیکن بھارت کے خلاف نہیں کھیلیں گے۔ یہی پاکستان کے پاس اس صورتحال میں ایک اکلوتا ہتھیار ہے۔ بھارت کے لیے یہ ایک بحران ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کا میچ کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ ہے، اسی لیے دونوں ٹیمیں ہمیشہ ایک گروپ میں رکھی جاتی ہیں۔

بوچر نے ICC کے فیصلوں میں تضاد پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دیگر ٹیمیں گروپ میں آنے کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں، مگر یہ دونوں ٹیمیں صرف پیسے کی وجہ سے خصوصی سلوک پاتی ہیں۔

مائیکل ووگن نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی اور کہا کہ کیا ایک ہی اصول سب پر لاگو ہوتا ہے؟ بھارت پہلے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر چکا ہے اور انہیں نیوٹرل وینیو دیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش کو وہ سہولت نہیں ملی۔ اسی وجہ سے پاکستان یہ قدم اٹھا رہا ہے۔

یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب پاکستانی حکومت نے گروپ مرحلے میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی تصدیق کی، جو وزیر اعظم شہباز شریف اور PCB چیئرمین محسن نقوی کے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کی وجہ ICC کی ڈبل اسٹینڈرڈ پالیسی بتائی گئی، خاص طور پر بنگلہ دیش کے سکیورٹی خدشات کے معاملے میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی