لاہور میں بسنت کے لیے محفوظ انتظامات، پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں اضافہ زیرِ نگرانی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی وزیر بلال یاسین کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا جس میں بسنت کے سلسلے میں سیف انتظامات اور پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی اور حکومتی اقدامات واضح کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت کے دنوں میں مفت ٹرانسپورٹ کیسے حاصل کی جائے؟
بلال یاسین نے بتایا کہ صوبے کے 4 اضلاع قصور، شیخوپورہ، فیصل آباد اور ملتان سے زیادہ سے زیادہ پتنگ بازی کا سامان لاہور پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاروں شہروں میں دستیاب سامان کی وافر مقدار سے قیمتوں میں واضح کمی آئے گی اور عوام سیف بسنت منا سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب نے لوگوں کی خوشیاں واپس لانے کے لیے سیف بسنت کا تحفہ دیا ہے۔
حکومت نے لاہور کے بعد دیگر اضلاع میں پتنگ بازی کا سامان بنانے کی اجازت دی ہے اور رجسٹرڈ مینوفیکچررز صرف رجسٹرڈ ٹریڈرز یا سیلرز کو ہی پتنگیں اور ڈور فروخت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں محفوظ بسنت کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک
بلال یاسین نے مزید کہا کہ لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو سیف بسنت کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں، تاکہ عوام کو خوشگوار اور محفوظ بسنت منانے کا موقع ملے۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی اور ایڈیشنل سیکرٹری پریزن سمیت دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت بلال یاسین لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلال یاسین لاہور بلال یاسین پتنگ بازی بسنت کے کے لیے
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔