بسنت کے دنوں میں مفت ٹرانسپورٹ کیسے حاصل کی جائے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت کی رنگارنگ تقریبات کو مزید محفوظ اور آسان بنانے کے لیے 2 رائیڈ کمپنییاں ان ڈرائیو اور ینگو کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم
اس اقدام کے ذریعے، 7,6 اور 8 فروری کو لاہور میں ہونے والی بسنت تقریبات کے دوران شہریوں کو مفت رکشہ اور کیب رائیڈز کی سہولت فراہم کی جائے گئی، حکومت کے مطابق اس سے آنے والے دوسرے ممالک سےسیاح اور پنجاب کے شہری مستفید ہونگے، ٹریفک کی شدید بھیڑ اور پارکنگ کے مسائل سے نجات دلانے میں یہ اقدام مدد دے گا۔
پی ایچ اے افسران کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں کمپنیاں مجموعی طور پر 180,000 مفت رائیڈز پیش کریں گی جن میں سے ہر رائیڈ 8 کلومیٹر تک کی ہوگی۔ اس سروس میں رکشہ اور کیب دونوں شامل ہیں، شہری ایپ کے ذریعے بھی رائیڈ بک کر سکیں گئے اور وہ براہ راست سڑکوں سے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 6,000 رکشے اور 60,000 کیب رائیڈز دستیاب ہوں گی جو شہر کے 24 اہم روٹس پر چلیں گی۔ یہ سروس خاص طور پر بسنت کے دوران پتنگ بازی اور تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ شہری موٹر سائیکل اور اپنی سواری کا استعمال کم سے کم کریں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس معاہدے کے لیے کمپنیوں کو کوئی براہ راست مالی ادائیگی نہیں کرے گی۔ اس کے بدلے میں، ینگو اور ان ڈرائیو کو لاہور کی مرکزی سڑکوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر اشتہاری اور برانڈنگ کی خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
مزید پڑھیے: لاہور میں محفوظ بسنت کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک
پی ایچ افسران کے مطابق یہ ماڈل نہ صرف حکومت کے بجٹ کو بچائے گا بلکہ کمپنیوں کو بھی طویل مدتی فوائد دے گا جو شہر کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس اقدام کو بسنت کو ایک محفوظ، ماحول دوست اور خوشگوار تہوار بنانے کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سہولت خاص طور پر بزرگ افراد، خاندانوں، خواتین اور سیاحوں کے لیے مفید ہوگی جو بغیر کسی پریشانی کے تقریبات سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سے روزانہ لاکھوں افراد مستفید ہوں گے، جو ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں بھی مدد دے گا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت کے رنگ بکھر گئے
علاوہ ازیں مفت بس سروس بھی جاری رہے گی جس میں 500 بسیں، میٹرو بس، اورنج لائن اور الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے جلد ہی روٹس، پک اپ پوائنٹس اور دیگر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا تاکہ شہری پہلے سے منصوبہ بندی کر سکیں۔ یہ معاہدہ لاہور کو ایک جدید شہر کی طرف گامزن کرنے کی ایک اور مثال ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ان ڈرائیو بسنت لاہور لاہور بسنت ینگو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ان ڈرائیو لاہور لاہور بسنت ینگو لاہور میں کے مطابق بسنت کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔