علاقائی استحکام کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)صدرآصف علی زرداری اورقازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کی ملاقات پاکستان پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کیلئے مل کر کام کرنے کو تیار ہے،صدر مملکت صدر آصف علی زرداری کا سیاسی، اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے پختہ عزم کا اظہار دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال دونوں ملکوں کے باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی تعلقات ہیں۔صدرمملکتحالیہ برسوں میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے،صدر آصف علی زرداریدوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے علاقائی روابط ضروری ہیں،صدر آصف علی زرداری صدر مملکت کا امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور علاقائی چیلنجز کا مقابلہ محاذ آرائی کی بجائے تعاون کے ذریعے کیا جانا چاہیے،صدر آصف علی زرداری قازقستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے،صدر قاسم جومارت توکایووف اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم۔ملاقات کے آخر میں صدر قاسم جومارت کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدر ا صف علی زرداری
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔