دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری تعاون، پاک آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں 9 ویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے 2026 کے تحت پیٹرولنگ مشق کا آغاز ہوگیا ہے، جس کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان تعاون بڑھانا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 9 ویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلے 2026 کی افتتاحی تقریب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں منعقد ہوئی اور ان مقابلوں کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون بڑھانا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افتتاحی تقریب میں 60 گھنٹے طویل پیٹرولنگ مشق کا آغاز ہوا، پاک فوج کے ایک سینئر افسر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، مقابلے میں 19 دوست ممالک کی مجموعی طور پر 24 بین الاقوامی ٹیمیں اور فوجی مبصرین کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
مقابلے میں شرکت کرنے والے ممالک میں بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکی، امریکا اور ازبکستان جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شرکت کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مشق میں پاک فوج اور پاک بحریہ کی 16 ملکی ٹیمیں اور پاک فضائیہ کے مبصرین بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ ایک مشن کے لیے مخصوص اور ٹاسک پر مبنی پیشہ ورانہ فوجی مشق ہے، جو پاکستان میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے، یہ مشق جسمانی و ذہنی صحت اور فوجی مہارت کے اعلیٰ ترین معیار کی متقاضی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ مقابلے قریب قریب حقیقی آپریشنل ماحول میں چیلنجنگ حکمت عملی کے مشنوں کو انجام دیتے ہوئے تیزی سے فیصلہ سازی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، مشق کا مقصد ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت کو فروغ دینا ہے، یہ مقابلہ جدید نظریات اور بہترین طریقوں کے باہمی اشتراک کے ذریعے شریک افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ بنیادی فوجی صفات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افواج کے درمیان دوست ممالک کی آئی ایس پی آر ٹیم اسپرٹ آرمی ٹیم
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔