اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے، وہ محاذ آرائی کے بجائے باہمی گفت و شنید سے حل کیے جا سکتے ہیں اور حکومت ان تمام امور پر سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، ذاتی دشمنی یا ادارہ جاتی تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو انگیج کریں اور قومی سطح کے معاملات میں انہیں اعتماد میں لیں، اپوزیشن سے رابطہ رکھا جائے اور مسائل کا حل سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کے معاملے پر وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تمام صوبوں اور سیاسی قوتوں کے ساتھ شفاف اور مشاورتی انداز میں آگے بڑھنا چاہتی ہے، وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے تاکہ صوبے کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے متوقع ملاقات میں مرکزی کردار رانا ثنا اللہ نے ادا کیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کر ان سے ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق یہ قدم سیاسی روایات اور جمہوری اقدار کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ذاتی نوعیت کی کوئی دشمنی نہیں بلکہ صرف سیاسی اختلافات ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، اگر اپوزیشن سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو حکومت بھی تمام متنازع امور پر کھلے دل کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام اور اتفاقِ رائے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔