سندھ آباد گار اتحاد کا اجلاس ، کسانوں کیلیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)) سندھ آبادگار اتحاد کا ماہانہ اجلاس مرکزی دفتر حیدرآباد میں نواب زبیر احمد تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ ہاری آبادگار کے مرکزی صدر محسن قاضی نے وفد کے ہمراہ خصوصی طور پر شرکت کی۔ سندھ آبادگار اتحاد اور سندھ ہاری آبادگار اتحاد میں ہونے والی ملاقات میں زراعت اور کسانوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ وارث شاہ ریگولیٹر کے قریب سکراں کے قریب روہڑی کینال کی لائننگ بغیر کسی نوٹس یا ٹینڈر کے کی جارہی ہے جو کہ ایک کرپٹ منصوبہ ہے۔ وقت پر پانی نہ ملنے سے گندم کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فروری میں پانی وقت پر نہ آیا تو گنے کی کاشت نہیں ہو سکے گی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس لاپرواہی کی غیر ذمہ داری کے خلاف ہر فورم پر رابطہ کیا جائے گا اور ہرجانے کے لیے درخواست دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کو بھی خط لکھا جائے گا کیونکہ کسانوں کو اربوں روپے کا مالی اور معاشی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے متنازعہ نہروں پر اجلاس بلانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کسان اتحاد نے پہلے بھی اس کے خلاف مزاحمت کی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ ہم سندھ کے پانی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔ اجلاس میں سندھ میں جعلی بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا گیا۔ کہا گیا کہ چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ جعلی مصنوعات کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ رائٹ بنک سکھر برانچ کینال چاول، کیرتھر، دادو کینال اور وارہ برانچ کی ڈی سلٹنگ کی جائے۔ اس کے علاوہ کیرتھر کینال کی ضلع گل شاہ اور تنوری ضلع کی جاری لائننگ کا سست رفتار کام جلد مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں ہاری کارڈ کے عمل میں ہونے والی بدعنوانی پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ہاری کارڈ میں کسانوں کے مسائل حل کیے جائیں۔ اجلاس میں افغانستان بارڈر کی مسلسل بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں کو بڑا نقصان ہو رہا ہے جس کا ازالہ وفاقی حکومت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس میں ا بادگار کے خلاف کیا گیا گیا کہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔