5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ; تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سٹی 42: 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کی مناسب سے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ۔
وفاقی وزرات امور کشمیر کی جانب سے مرکزی تقریب کا شیڈول جاری کر دیا گیا۔تمام شرکا کو صبح 9 بج کے 20 منٹ پر مین جناح ایونیو شہید ملت، چائینہ چوک پہنچنے کی ہدایت کی گئی ۔ وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام یکجہتی واک کا انعقاد کیا جائے گا۔چائنا چوک سے ڈی چوک تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی جائے گی۔تمام وزارتوں کے افسران و ملازمین واک میں شریک ہوں گے۔
مریم اورنگزیب کا رات گئےاندرونِ شہر کا دورہ، بسنت انتظامات کا جائزہ لیا
وفاقی وزراپریڈ گراؤنڈ میٹرو بس اسٹیشن سے واک میں شریک ہو کر اس کی قیادت کریں گے۔صبح 10 بجے سائرن بجا کر شرکا کی جانب سے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا
تقریب کے دوران یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اہم خطابات ہوں گے۔پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرے گا۔یوم یکجہتی کشمیر ملک بھر میں 5 فروری شایان شان طریقے سے منایا جائے گا
پھلوں کی آج کی ریٹ لسٹ -04 فروری، 2026
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔