5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر، ’طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے‘
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان میں ہر سال کی طرح رواں برس بھی 5 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور یادگار تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین بھی کشمیریوں کے حق میں پیغامات دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ 5 فروری اس ظلم کی یاد دلاتا ہے جب بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر ڈاکہ ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی بھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے۔
5 فروری اس ظلم کی یاد دلاتا ہے جب بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر ڈاکہ ڈالا۔ طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی بھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.
— Armaghan Haider (@Armaghan_Hdr001) February 4, 2026
نور خان لکھتی ہیں کہ کشمیری دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔
سید علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ 'ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہمارا ہے' کشمیریوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کشمیری دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/Xahf4bejF0
— Noor khan (@Huma156) February 4, 2026
زیب نامی صارف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے۔ کشمیری عوام کی خواہشات کو بندوق کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ امن کی راہ صرف اور صرف منصفانہ استصوابِ رائے سے ہی نکلتی ہے۔
مسئلہ کشمیر کا واحد حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے۔ کشمیری عوام کی خواہشات کو بندوق کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ امن کی راہ صرف اور صرف منصفانہ استصوابِ رائے سے ہی نکلتی ہے۔#Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/qoJGXJJfSd
— ZaiB ???????????????? (@sheikh_hon_yaar) February 4, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کشمیر کی جنت نظیر وادی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہے لیکن اب یہ وادی مودی سرکار کی انتہا پسند سوچ اور غیر جمہوری اقدامات کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خوابِ غفلت سے جاگے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلائے۔
کشمیر کی جنت نظیر وادی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہے، لیکن اب یہ وادی مودی سرکار کی انتہا پسند سوچ اور غیر جمہوری اقدامات کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خوابِ غفلت سے جاگے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلائے#Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/9AvmuRxIiH
— pakistan media (@viralnewzzzzz) February 4, 2026
ایمن خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں انتہائی افسوسناک ہیں۔ 1989 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہو کر شہید ہو چکے۔ دنیا کو اس فسطائیت پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں انتہائی افسوسناک ہیں۔ 1989 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہو کر شہید ہو چکے۔ دنیا کو اس فسطائیت پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/MdRIABmyvn
— Aiman khan ???? (@Ayzalkhan123) February 4, 2026
واضح رہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں مختلف اجتماعات اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی جن میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ان کے حق خودارادیت کے لیے حمایت کا پیغام دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5 فروری بھارت بھارت کشمیر مقبوضہ کشمیر یوم یکجہتی کشمیر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارت کشمیر یوم یکجہتی کشمیر کشمیریوں کے اور کشمیر کے زور پر کشمیر کے کا شکار کے لیے
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز