پاکستان میں ہر سال کی طرح رواں برس بھی 5 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور یادگار تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین بھی کشمیریوں کے حق میں پیغامات دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ 5 فروری اس ظلم کی یاد دلاتا ہے جب بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر ڈاکہ ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی بھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے۔

5 فروری اس ظلم کی یاد دلاتا ہے جب بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر ڈاکہ ڈالا۔ طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی بھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.

twitter.com/UNJmTPs7LG

— Armaghan Haider (@Armaghan_Hdr001) February 4, 2026

نور خان لکھتی ہیں کہ کشمیری دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔

سید علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ 'ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہمارا ہے' کشمیریوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کشمیری دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/Xahf4bejF0

— Noor khan (@Huma156) February 4, 2026

زیب نامی صارف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے۔ کشمیری عوام کی خواہشات کو بندوق کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ امن کی راہ صرف اور صرف منصفانہ استصوابِ رائے سے ہی نکلتی ہے۔

مسئلہ کشمیر کا واحد حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے۔ کشمیری عوام کی خواہشات کو بندوق کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ امن کی راہ صرف اور صرف منصفانہ استصوابِ رائے سے ہی نکلتی ہے۔#Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/qoJGXJJfSd

— ZaiB ???????????????? (@sheikh_hon_yaar) February 4, 2026

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کشمیر کی جنت نظیر وادی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہے لیکن اب یہ وادی مودی سرکار کی انتہا پسند سوچ اور غیر جمہوری اقدامات کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خوابِ غفلت سے جاگے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلائے۔

کشمیر کی جنت نظیر وادی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہے، لیکن اب یہ وادی مودی سرکار کی انتہا پسند سوچ اور غیر جمہوری اقدامات کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خوابِ غفلت سے جاگے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلائے#Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/9AvmuRxIiH

— pakistan media (@viralnewzzzzz) February 4, 2026

ایمن خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں انتہائی افسوسناک ہیں۔ 1989 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہو کر شہید ہو چکے۔ دنیا کو اس فسطائیت پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں انتہائی افسوسناک ہیں۔ 1989 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہو کر شہید ہو چکے۔ دنیا کو اس فسطائیت پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ #Kashmir_is_Pakistan pic.twitter.com/MdRIABmyvn

— Aiman khan ???? (@Ayzalkhan123) February 4, 2026

واضح رہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں مختلف اجتماعات اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی جن میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ان کے حق خودارادیت کے لیے حمایت کا پیغام دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

5 فروری بھارت بھارت کشمیر مقبوضہ کشمیر یوم یکجہتی کشمیر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارت کشمیر یوم یکجہتی کشمیر کشمیریوں کے اور کشمیر کے زور پر کشمیر کے کا شکار کے لیے

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف