مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت کے مختلف حصوں میں، بالخصوص ہماچل پردیش میں، کشمیریوں کو درپیش مسلسل ہراسانی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلہ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، جموں میں بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کو ہراساں کیے جانے کا عمل انتہائی افسوسناک ہے۔

وزرائے اعلیٰ کانفرنس میں بھی مسئلہ اٹھایا

عمر عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس میں بھی اٹھایا تھا اور تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی تھی کہ کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ، چاہے وہ طلبہ ہوں یا تاجر، فوری طور پر بند کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس کے باوجود کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے اور نشانہ بنانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

قانون ساز اسمبلی میں بھی آواز بلند

کشمیریوں کو درپیش ہراسانی کا مسئلہ بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بھی گونج اٹھا، جہاں متعدد ارکان نے اس اہم معاملے پر باقاعدہ بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔

کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے کشمیریوں کے لیے بہتر تحفظ، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت کشمیری مقبوضہ کشمیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت کشمیریوں کو میں بھی

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا