data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کھیل کے میدان میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کی روایتی رقابت دیکھنے کو ملنے والی ہے، جہاں دونوں ممالک کی انڈر 20 فٹبال ٹیمیں ساف انڈر 20 فٹبال چیمپین شپ کے دوران مدِمقابل آئیں گی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ مقابلہ 26 مارچ کو مالدیپ کے نیشنل فٹبال اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جسے ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا میچ قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی کشیدگی کے باعث طویل عرصے سے کھیلوں کے میدان میں پاکستان اور بھارت کے مقابلے کم دیکھنے میں آ رہے تھے، تاہم ساف انڈر 20 فٹبال چیمپین شپ نے ایک بار پھر دونوں روایتی حریفوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 23 مارچ سے 4 اپریل تک مالدیپ کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں جنوبی ایشیا کے سات ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں میزبان مالدیپ کے ساتھ نیپال، بھوٹان اور سری لنکا شامل ہیں جب کہ گروپ بی میں دفاعی چیمپین بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش کو رکھا گیا ہے۔ گروپ بی کو خاص طور پر سخت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ تینوں ٹیمیں مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔

پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا گروپ میچ 24 مارچ کو بنگلا دیش کے خلاف کھیلے گی، جس کے بعد 26 مارچ کو روایتی حریف بھارت سے ٹکراؤ ہوگا۔ یہ مقابلہ نہ صرف گروپ کی پوزیشن کے لیے اہم ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے فٹبال شائقین کے لیے بھی غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنے گا۔

ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق دونوں گروپس کی ٹاپ دو ٹیمیں یکم اپریل کو کھیلے جانے والے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی، جبکہ فائنل مقابلہ 3 اپریل کو ہوگا۔

اس فارمیٹ کے باعث اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان اور بھارت نہ صرف گروپ مرحلے بلکہ سیمی فائنل یا فائنل میں بھی ایک بار پھر آمنے سامنے آ جائیں، یوں دونوں ٹیمیں تین مرتبہ بھی مدِمقابل آ سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت انڈر 20 فٹبال

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز