کراچی:

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آج پارلیمانی جمہوریت کو اعتماد میں کمی کا چیلنج درپیش ہے، مضبوط پارلیمان ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہوتی ہے۔

سندھ اسمبلی میں سی پی اے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سی پی اے جیسی اس اہم کانفرنس سے خطاب میرے لیے باعثِ اعزاز ہے، سی پی اے کانفرنس جمہوری مکالمے اور اچھی حکمرانی سے وابستگی کا واضح اظہار ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آج پارلیمانی جمہوریت کو اعتماد میں کمی، سیاسی تقسیم جیسے چیلنجز درپیش ہیں، اعتماد جمہوریت کی بنیاد ہے جو شفافیت اور جوابدہی سے فروغ پاتا ہے، سندھ میں قانون سازی کی نگرانی اور پارلیمانی شفافیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دور کا ایک بڑا چیلنج ہے، سیلاب اور خشک سالی سے سندھ شدید متاثر ہے، قانون سازی میں ماحولیاتی مزاحمت کو انصاف اور انسانی حقوق سے جوڑا جا رہا ہے، جدت مستقبل کی جمہوریت کی سمت متعین کرے گی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ڈیجیٹل ذرائع پارلیمانی شفافیت اور عوامی رابطے کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں، سندھ میں جدید پارلیمانی نظام اور مصنوعی ذہانت پر غور کا آغاز ہو چکا ہے، سی پی اے جیسے پلیٹ فارمز امن اور علاقائی تعاون کے لیے ناگزیر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ سی پی اے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن