آج پارلیمانی جمہوریت کو اعتماد میں کمی کا چیلنج درپیش ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آج پارلیمانی جمہوریت کو اعتماد میں کمی کا چیلنج درپیش ہے، مضبوط پارلیمان ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہوتی ہے۔
سندھ اسمبلی میں سی پی اے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سی پی اے جیسی اس اہم کانفرنس سے خطاب میرے لیے باعثِ اعزاز ہے، سی پی اے کانفرنس جمہوری مکالمے اور اچھی حکمرانی سے وابستگی کا واضح اظہار ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آج پارلیمانی جمہوریت کو اعتماد میں کمی، سیاسی تقسیم جیسے چیلنجز درپیش ہیں، اعتماد جمہوریت کی بنیاد ہے جو شفافیت اور جوابدہی سے فروغ پاتا ہے، سندھ میں قانون سازی کی نگرانی اور پارلیمانی شفافیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دور کا ایک بڑا چیلنج ہے، سیلاب اور خشک سالی سے سندھ شدید متاثر ہے، قانون سازی میں ماحولیاتی مزاحمت کو انصاف اور انسانی حقوق سے جوڑا جا رہا ہے، جدت مستقبل کی جمہوریت کی سمت متعین کرے گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ڈیجیٹل ذرائع پارلیمانی شفافیت اور عوامی رابطے کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں، سندھ میں جدید پارلیمانی نظام اور مصنوعی ذہانت پر غور کا آغاز ہو چکا ہے، سی پی اے جیسے پلیٹ فارمز امن اور علاقائی تعاون کے لیے ناگزیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔