کمشنر حیدرآباد اورڈی آئی جی کا ٹھٹھہ میں پولیو ٹیموں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق رزاق خان دھاریجو نے ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی کے ہمراہ ٹھٹہ کا دورہ کیا،انسداد پولیو مہم کے انتظامی اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا، ونڈ پاور پراجیکٹس ایڈمنسٹریٹر ز کے ہمراہ اجلاس ، اسپورٹس کمپلیکس ٹھٹہ اور سٹی میوزیم کا دورہ بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج ڈویژنل کمشنر حیدرآباد کے ہمراہ سال رواں کی پہلی انسداد پولیو مہم کے انتظامی اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ٹھٹھہ پہنچے شہید عظیم انڑ میٹر نیتی ہوم میں قائم ٹرانزٹ پوائنٹ میں ڈی ایچ او ٹھٹھہ صفدر شاہ نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت،ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی،اسسٹنٹ کمشنر ٹھٹھہ شاکر فہیم،انچارج آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ سید غیور عباس شاہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج نے کہا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں انکی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کے لئے والدین سمیت تمام اداروں کو مل کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے انسداد پولیو مہم کے عملے کو فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی کی ہدایت کی ڈویژنل کمشنر حیدرآباد نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لئیے از حد ضروری ہے کہ 5 سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر بار حفاظتی قطرے پلائے جائیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاللہ مربوط حکمت عملی، محنت اور شہریوں کے تعاون سے پولیو کے خاتمے کو ممکن بنایا جائے گا۔دریں اثنا ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج اور ڈویژنل کمشنر نے ونڈ پاور پراجیکٹس کے ایڈمنسٹریٹر ز سے اہم اجلاس کیا ۔دورے کے آخر میں میں وہ سٹی میوزیم ٹھٹھہ بھی گئے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈویژنل کمشنر ڈی آئی جی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔