ایندھن کے اخراج کے باعث ناسا کا انسان بردار چاند مشن موخر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ناسا نے حتمی آزمائشی مراحل کے دوران ایندھن کا اخراج سامنے آنے کے بعد چاند کی طرف پہلے انسان بردار خلائی مشن کی لانچ مارچ تک موخر کر دیا۔ یہ گزشتہ 50سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہے۔ امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ آزمائشی مرحلے کے دوران پیش آنے والی خرابیوں کے باعث یہ امکان ختم ہو گیا کہ مشن اتوار کو لانچ کیا جا سکے۔ اب اگلی ممکنہ لانچ ونڈو 6 مارچ کو کھلے گی۔ 2روزہ ٹیسٹ کے دوران سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ میں مائع ہائیڈروجن اور مائع آکسیجن بھری گئی، تاہم آزمائش کے دوران ہائیڈروجن کے اخراج کے متعدد مسائل سامنے آئے۔ناسا اس تاریخی مشن کو مکمل تیاری کے یقین کے بغیر لانچ نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔