data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-08-7
کراچی(اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل ونائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے صوبائی وزیرداخلہ ضیا الحسن لنجار کی جانب سے جماعت اسلامی کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے اور سندھ اسمبلی پر دھرنا نہ دینے کے بیان پراپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ اور 14فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنے کے اعلان کے بعد پیپلزپارٹی کو اچانک عوام کی یاد ستانے لگی ہے، پیپلز پارٹی کی بدترین دور حکمرانی میںکراچی بھر میں سڑکیں برباد اور عوام اذیت کا شکار ہیں، یونیورسٹی روڈ کھدا پڑا ہے ، کریم آباد انڈر پاس سالوں سے زیر تعمیر ہے،صوبے کا 70 فیصد بجٹ کرپشن کی نظر ہورہا ہے،اس صورتحال پر کیا عوام کو تکلیف نہیں ہوتی، وزیر داخلہ بتائیں کہ جب دہشت گرد تنظیم الذوالفقار ملک بھر میں دھماکے کرتی تھی،بینظیر کی شہادت پر سیکڑوں گاڑیاں جلائی گئیں، پورا ملک بند رکھا گیا، کیا عوام کو اس وقت تکلیف نہیں ہوئی تھی؟ آج کراچی کے ساڑھے 3 کروڑعوام پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ ، انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی سمیت بے شمار مسائل کا شکارہیں اور جماعت اسلامی کا دھرنا با اختیار شہری حکومت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے، دھرنا عوام کا آئینی و قانونی اور جمہوری حق ہے، سندھ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے بازو اور زور کو آزمالے، دہشت گردی کے مقدمات سمیت جوکچھ کرنا چاہے کرلے،جماعت اسلامی اپنے پروگرام کے مطابق14فروری کو سندھ اسمبلی پر ہر صورت میں دھرنا دے گی اور اہل کراچی کے حقوق اور مسائل کے حل کی جدوجہد سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن