ملک کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک عیاشی کرنے والوں کو واپس لائیں گے،شفیق الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-08-17
ڈھاکا (صباح نیوز)جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کے پاس بہت پیسہ ہے۔ یہ جو چوروں نے چوری کر کے بنگلا دیش سے 82 لاکھ کروڑ ٹکا بیرون ملک منتقل کر دیا ہے، اللہ نے توفیق دی تو ہم ان کے پیٹ میں ہاتھ ڈال کر وہ پیسہ واپس لائیں گے۔ یہ رقم ملک کے سالانہ بجٹ سے 4 گنا زیادہ ہے۔ یہ رقم واپس لانے کے لیے ہم جان و دل سے کوشش کریں گے۔ کسی ماموں خالہ کو چھوڑ کر بات نہیں کریں گے۔ ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک جا کر بادشاہوں کی طرح رہائش اختیار کرنے والوں کی نیند حرام کر دیں گے۔ ان کی صرف دولت ہی نہیں، بلکہ ان چوروں کو خود ملک واپس، انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ میمن سنگھ کے تاریخی سرکٹ ہاؤس میدان میں بنگلا دیش جماعت اسلامی اور 11 جماعتی اتحاد کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس بار بنگلا دیش کے عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ انہی کے ساتھ ہوں گی، جو اس ملک کے آزمودہ، معروف، ثابت شدہ لوگ ہیں جو انصاف کے حق میں، سچائی کے حق میں، حق کے حق میں، مدینے کے نمونے پر انصاف قائم کرنے کے حق میں ہوں گے۔امیر جماعت نے کہاکہ اس بار کا الیکشن کوئی عام الیکشن نہیں ہے۔ اس بار کا الیکشن قوم کی تقدیر کو مناسب راستے پر لا کھڑا کرنے کا الیکشن ہے۔ آزادی سے پہلے کے32 سال اور بعد کے45 سال، یعنی کل 77 سال ہم نے دیکھ لیے۔ کیا آپ یہ پرانی سیاست بنگلا دیش میں دوبارہ چاہتے ہیں؟ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں نہیں چاہتے، بلکہ بچے بھی نہیں چاہتے، ہماری مائیں بہنیں بھی نہیں چاہتیں۔ وہ سب اس بنگلا دیش میں تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک ہمارا پیارا ہے۔دنیا کے نقشے پر باعزت ملک کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہ کام جماعت اسلامی ہی کرسکتی ہے۔جماعت کے امیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے پاسپورٹ کی ویلیو بہت کمزور ہے۔ بہت جگہوں پر اس ملک کی شناخت بتانے میں لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اس کی ذمے دار ہماری بددیانت قیادت ہے۔ جو عوام کو دھوکا دے کر انہیں بیوقوف بنا کر ان کی تقدیر کو نوچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے 45 سال میں بنگلا دیش کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔مہانگر جماعت کے امیر کامرول احسان امرو کی صدارت میں جلسے میں مرکزی پرچار سیکرٹری ایڈووکیٹ مطیع الرحمن آکند، ضلع امیر عبدالکریم، نائب امیر کامرول حسن ملن، اسعد الزماں سہیل، مہانگر جماعت کے سیکرٹری شہید اللہ قیصر سمیت ضلع کے 11 پارلیمانی حلقوں اور نیترکونا ضلع کے امیدواروں نے خطاب کیا۔ بعد میں جماعت اسلامی کے امیر نے موجود امیدواروں سے عوام کا تعارف کرایا۔
مہانگر: امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن میمن سنگھ کے تاریخی سرکٹ ہائوس میدان میں انتخابی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کے حق میں کے امیر ملک کے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔