Islam Times:
2026-07-24@01:57:04 GMT

چینی ہم منصب سے بات چیت شاندار رہی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

چینی ہم منصب سے بات چیت شاندار رہی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

چینی میڈیا کے مطابق چینی صدر نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے دوران امریکا چین تعلقات میں تائیوان کے مسئلے کو اہم قرار دیا، چین صدر نے تائیوان کے ساتھ اسلحے کے معاہدے پر امریکا کو انتہائی احتیاط سے کام لینے کا کہا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ  کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ امریکی صدر نے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کو شاندار قرار دیا۔ ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی صدر  نے کہا کہ صدر شی سے تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس اور یوکرین تنازع اور ایران کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کی امریکا سے تیل، گیس، اضافی زرعی مصنوعات کی خریداری، طیاروں کے انجنوں کی ترسیل سمیت دیگر موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔

چینی میڈیا کے مطابق چینی صدر نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے دوران امریکا چین تعلقات میں تائیوان کے مسئلے کو اہم قرار دیا، چین صدر نے تائیوان کے ساتھ اسلحے کے معاہدے پر امریکا کو انتہائی احتیاط سے کام لینے کا کہا۔ دوسری جانب چینی اور روسی صدور کے درمیان بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ کریملن کے مطابق چینی صدر اور روسی صدر پیوٹن نے ایران، یوکرین اور دیگر اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیوٹن نے دورہ چین کی دعوت قبول کرلی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تائیوان کے چینی صدر

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل