افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ اب پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جو خطے میں امن و امان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ اسلحہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس کے باعث دہشت گرد حملوں کی شدت اور مہلک نوعیت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیاروں سے لیس ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کے سربراہ جان سوپکو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً تین لاکھ جدید ہتھیار چھوڑ دیے گئے تھے، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران وہی امریکی اسلحہ استعمال ہوا جو افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس اسلحے کی باآسانی دستیابی نے دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف عسکری برتری فراہم کی بلکہ ان کے حملوں کو پہلے سے زیادہ منظم، مہلک اور خطرناک بنا دیا ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کو متعدد بار ٹھوس شواہد فراہم کر چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ امریکا کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس مسئلے پر عالمی توجہ مبذول کرانے کے باوجود تاحال کوئی مؤثر اور ٹھوس اقدام سامنے نہیں آ سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال ہو
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔