data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین نے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں میں دروازوں کے چھپے ہوئے ہینڈلز پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس اقدام کے بعد چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس جدید ڈیزائن فیچر کو باقاعدہ طور پر ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔

پوشیدہ یا چھپے ہوئے ڈور ہینڈلز کو خاص طور پر ٹیسلا کی گاڑیوں کا نمایاں فیچر سمجھا جاتا ہے، جہاں ہینڈل دروازے کی سطح کے ساتھ ہموار ہوتا ہے اور دبانے پر باہر آتا ہے۔ اندرونی جانب دروازہ کھولنے کے لیے بٹن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ڈیزائن کو جدید اور ایروڈائنامک قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم چینی حکام نے اسے سیکورٹی اور عملی استعمال کے حوالے سے مسائل کا سبب قرار دیا ہے۔

چین کی اس پابندی کا اطلاق ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹیسلا کو عالمی سطح پر فروخت میں کمی کا سامنا ہے اور چین میں اسے مقامی کمپنیوں سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔

ٹیسلا کے علاوہ چین میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی دیگر بڑی کمپنیاں جیسے شیاؤمی اور آئیون بھی اس ڈیزائن کو اپنائے ہوئے تھیں، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ پوری آٹو انڈسٹری کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چینی حکومت کا یہ قدم صارفین کی حفاظت اور ہنگامی حالات میں گاڑیوں کے دروازے کھولنے میں آسانی کو مدنظر رکھ کر اٹھایا گیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حادثات کی صورت میں پوشیدہ ہینڈلز فوری طور پر قابلِ استعمال نہیں رہتے، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین میں آٹو انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد گاڑی ساز کمپنیوں کو اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جس سے پیداوار اور لاگت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ صارفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ