دبئی میں ٹریفک جام کا خاتمہ؟ صرف 3 منٹ میں دبئی مال پہنچنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
دبئی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبہ متعارف کرا دیا گیا ہے۔
دبئی حکام نے شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے زیرِ زمین لوپ ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت دبئی میں سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا اور شہری چند منٹوں میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔ حکام کے مطابق شیخ زاید روڈ پر واقع دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) سے دبئی مال کا سفر صرف 3 منٹ میں مکمل کیا جا سکے گا۔
دبئی حکام کا کہنا ہے کہ لوپ ٹرانسپورٹ سسٹم شہر میں ٹریفک دباؤ کم کرنے اور روزمرہ آمدورفت کو مزید ہموار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کا ابتدائی پائلٹ روٹ ساڑھے 6 کلومیٹر طویل ہوگا۔
54 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں چار اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جن کے ڈیزائن بھی پیش کر دیے گئے ہیں۔ یہ اسٹیشنز برج خلیفہ، ڈی آئی ایف سی 2، زعبیل دبئی مال پارکنگ اور آئی سی ڈی بروک فیلڈ پلیس میں قائم کیے جائیں گے۔
اس منصوبے کی تعمیر کے لیے دبئی حکام نے امریکی ارب پتی ایلون مسک کی زیرِ ملکیت کمپنی ’دی بورنگ کمپنی‘ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو پورا لوپ سسٹم 19 اسٹیشنز پر مشتمل ہوگا اور اس کی مجموعی لمبائی 22.
دبئی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر ایک سال کے اندر مکمل کر لی جائے گی، جبکہ مکمل پراجیکٹ کے تین سال میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دبئی حکام
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔