ایران امریکا مذاکرات جمعےکو مسقط میں ہوں گے: ایرانی و امریکی حکام کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل سے متعلق تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئیں، دونوں ممالک نے بات چیت طے شدہ دن اور وقت کے مطابق ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات جمعے کی صبح 10 بجے مسقط میں منعقد ہوں گے۔ انہوں نے ضروری انتظامات کرنے پر عمانی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب دو سینیئر امریکی عہدیداروں نے بھی امریکی میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات عمان میں ہوں گے۔
قبل ازیں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات جمعے ہی کو ترکیہ میں شیڈول تھے، تاہم بعد ازاں ایران نے مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایران نے مقام کی تبدیلی کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت کو صرف جوہری امور تک محدود رکھا جائے، تاہم ان مطالبات کے تسلیم یا مسترد ہونے سے متعلق فی الحال کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔