جنگ کی گھن گھرج کے دوران بالآخر امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے سامنے آنا چاہتا ہے تو وہ رواں ہفتے بھی ملنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ امریکا ہمیشہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کے لیے آمادہ رہا ہے لیکن یہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ تک ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطّے میں پراکسی گروہوں کی حمایت، اور ایرانی عوام کے ساتھ بے رحمانہ سلوک جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آنے چاہئیں۔

مارکو روبیو نے مزید بتایا کہ ایران پہلے ترکیہ میں جمعہ کے روز مذاکرات کے لیے متفق ہوا تھا لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گیا اور عمان میں مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اب بھی جمعہ کے مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے موضوع اور مقام میں تبدیلی کی درخواست کرتے ہوئے ایران نے خواہش طاہر کی ہے کہ مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود رہیں اور عمان میں ہوں۔

تاہم اب تک امریکا کا اصرار یہی رہا ہے کہ مذاکرات استنبول میں ہوں اور اس میں صرف جوہری پروگرام کو زیرِ بحث نہ لایا جائے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مذاکرات کے ایران کے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار