ایران نے امریکا کو مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے پر رضامند کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدہ حالات میں مذاکرات کا مقام تبدیل کروانا ایران کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واشنگٹن کو دوطرفہ مذاکرات ترکیہ کے بجائے عمان منتقل کرنے پر رضا مند کر لیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مذاکرات عمان منتقل کرنے کی حامی بھری۔ تہران کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذاکرات کے لیے عمان زیادہ موزوں اور غیر جانبدار مقام ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اب جمعہ کو عمان میں ہوں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدہ حالات میں مذاکرات کا مقام تبدیل کروانا ایران کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ جو خطے میں مستقبل کی پیش رفت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔