دبئی میں ٹریفک جام سے نمٹنے کے لیے نیا سسٹم متعارف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی (انٹرنیشنل ڈیسک) امارات کے شہر دبئی میں ٹریفک کی روانی کو ہموار رکھنے کے لیے نئے لوپ ٹرانسپورٹ سسٹم کا منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے۔یہ زیرزمین لوپ سسٹم دبئی میں سفر کو منٹوں میں مکمل کرنا ممکن بنائے گا۔اس منصوبے کے تحت شیخ زاید روڈ پر واقع دبئی فنانشل سینٹر سے دبئی مال کا سفر3 منٹ میں ممکن ہو جائے گا۔ دبئی حکام کے مطابق لوپ منصوبہ ٹریفک دباؤ کم کرنے میں مددگار ہوگا۔اس لوپ سسٹم کا اولین پائلٹ روٹ ساڑھے 6 کلومیٹر طویل ہوگا۔54 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے اس منصوبے کے اولین 4 اسٹیشنز کے خاکوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ اسٹیشن برج خلیفہ، ڈی آئی ایف سی 2، زیبیل دبئی مال پارکنگ اور آئی سی ڈی بروک فیلڈ پیلس میں تعمیر کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔