بسنت کے دوران بارش ہوگی یا موسم خوشگوار رہے گا؟ پیشگوئی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
لاہور:
پنجاب خصوصاً لاہور میں بسنت کے دوران موسم کے حوالے سے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پیش گوئی جاری کردی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بسنت کے دوران لاہور اور گردونواح میں موسم خوشگوار رہنے کا امکان ہے۔ پیش گوئی میں مزید بتایا گیا ہے کہ 6 سے 8 فروری کے دوران لاہور میں موسم خشک رہے گا جب کہ مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔
بسنت کے دنوں میں شہر کا درجہ حرارت 20 سے 22 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دریں اثنا پی ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں اس دوران بارش جب کہ پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ بارش اور برفباری کے باعث بالائی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بسنت کے دوران شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران بجلی کی تاروں اور چھتوں پر خاص احتیاط برتی جائے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دھاتی ڈور، کیمیکل ڈور اور غیر قانونی سامان کے استعمال سے مکمل گریز کیا جائے جب کہ موٹر سائیکل سوار حفاظتی ہیلمٹ اور گلے کے حفاظتی کور کا استعمال یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بسنت کے دوران
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔