بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے کہا ہے کہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کی، کشمیری جھکنے والی قوم نہیں، کشمیریوں کو تسلط اور طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر نہ مناتا ہو، جب بھی کشمیریوں پر ظلم کیا جاتا ہے، پاکستان پوری قوت کے ساتھ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان اور میاں نواز شریف کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں، کشمیری دنیا کی ایک باہمت اور مضبوط قوم ہیں جو اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے اور خواتین بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں، سات دہائیوں سے جاری مظالم کے باوجود آٹھ لاکھ بھارتی فوج بھی کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکی، آج مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی جانب سے سلام پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوئے 2 ہزار 375 دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کشمیری قوم جھکنے والی نہیں ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیریوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد مقبوضہ کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کشمیری عوام
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔