لاہور قلندرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو 6 کروڑ روپے سے زائد میں براہِ راست سائن کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے لیے بنگلہ دیش کے نامور فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو براہِ راست معاہدے کے تحت ٹیم میں شامل کرلیا ہے، جس پر 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے۔
لاہور قلندرز نے جمعرات کو اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بنگلہ دیشی بھائی مستفیض، جو 2016 اور 2018 میں قلندرز کا حصہ رہے، اب براہِ راست سائننگ کے تحت واپس خاندان میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک بار قلندرز، ہمیشہ قلندرز۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا
مستفیض الرحمٰن نے رواں سال جنوری کے آغاز میں پی ایس ایل کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی، جو انہیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے اسکواڈ سے ریلیز کیے جانے کے بعد ممکن ہوئی۔30 سالہ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کو دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل منی نیلامی میں کے کے آر نے 9.
Fizzzzzz ????
Our Bangladeshi brother, @Mustafiz90, picked in 2016 and 2018, is now our direct signing and finally back with the family. Once a Qalandar, always a Qalandar. ????
Amount spent on DS: PKR 6.44 Crore ????#Number1TeamForAReason #QalandarDilSe pic.twitter.com/rLMTJB6ybh
— Lahore Qalandars (@lahoreqalandars) February 5, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا، جن کا پس منظر بنگلہ دیش میں اقلیتی برادری پر حملوں سے متعلق رپورٹس کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے ردعمل میں بنگلہ دیش نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل فیس بک ری ایکشنز میں ہیرا پھیری: بوٹس کے منظم استعمال کا انکشاف
آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو 20 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں شامل کرلیا۔
واضح رہے کہ مستفیض الرحمٰن 2016 سے اب تک آئی پی ایل کے مختلف سیزنز میں 60 سے زائد وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور اس سے قبل بھی وہ لاہور قلندرز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی واپسی کو قلندرز کے بولنگ اٹیک کے لیے ایک بڑی تقویت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی سے ٹی20 ورلڈ کپ پی ایس ایل لاہور قلندرز مستفیض الرحمٰن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی سے ٹی20 ورلڈ کپ پی ایس ایل لاہور قلندرز مستفیض الرحم ن مستفیض الرحم ن لاہور قلندرز آئی پی ایل پی ایس ایل بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔