روس سے جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک،یوکرینی صدر کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف:یوکرینی صدر نے یہ بات فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے جنگ کے انسانی نقصانات اور موجودہ سفارتی کوششوں پر کھل کر بات کی۔
زیلنسکی کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں پیشہ ور سپاہی بھی شامل ہیں اور وہ اہلکار بھی جو جنگ کے دوران جبری طور پر بھرتی کیے گئے۔ انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے معلومات مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں اور حتمی اعداد و شمار کا تعین مشکل ہے، جنگ نے یوکرینی معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور ملک کو بھاری انسانی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔
واضح رہے کہ صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025ء میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جنگ کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں قائم ایک معروف تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025ء کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اقوام متحدہ نے شہری آبادی کے تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
روس کو بھی اس جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025ء میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں۔ انہوں نے یہ بیان ابو ظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے پس منظر میں دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ کسی قابلِ قبول سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے حساس معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے۔
فی الوقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں جبکہ جنگ بندی کی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوجی ہلاک کے مطابق جنگ کے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔