بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے مختلف پابندیاں نافذ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے مختلف پابندیاں نافذ کردی گئیں۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگوں پرمقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر پابندی ہے ساتھ ہی کسی ملک یاسیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی عائد ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہے تاہم بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگ یا گُڈّا استعمال کرنے کی اجازت ہے۔دھاتی تار اور نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ کا استعمال لازم ہے، بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ اوراسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت کارروائی کریں گے۔ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق صرف قانون کے مطابق پتنگ بازی کا سامان شہر میں آئے گا جبکہ ممنوعہ سامان فوری ضبط ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔