سابق بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات کو روشن قرار دیا ہے۔ایشون نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان اسکواڈ کے تجزیے کے دوران ٹیم کے امکانات پر بات کی۔سابق بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون نے کہا کہ شاید کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئے، لیکن میں صرف کرکٹ کی بات کر رہا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات واقعی بہت اچھے ہیں۔ایشون کے مطابق پاکستان کے اوپنرز اور بولرز ٹیم کی بڑی طاقت ہیں۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ان کی اوپننگ جوڑی ہے۔ بابر اعظم اوپن نہیں کریں گے بلکہ صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب اوپن کریں گے۔ صائم ایوب پاور پلے میں بیٹنگ کے دوران متاثر کن رہے ہیں۔ایشون نے کہا کہ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی کا پاور پلے میں اکانومی ریٹ 6.

5 ہے۔ ابرار احمد اور نواز بھی اچھے  بولرز ہیں ، نواز کنٹرول کے ساتھ اور ابرار اپنی انفرادیت کی وجہ سے خطرناک ہیں۔39 سالہ ایشون نے پاکستان ٹیم کی کمزوریوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بعض اہم کھلاڑیوں کی غیر مستقل کارکردگی اور ٹیم کمبی نیشن کے فیصلے شامل ہیں، تاہم انہوں نے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی صلاحیت کو بھی تسلیم کیا۔انہوں نے کہا پاکستان کی کمزوری بابر اعظم کا مڈل آرڈر میں آنا ہے، جبکہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کی ڈیتھ اوورز میں بولنگ زیادہ مؤثر نہیں رہی۔ شاداب خان کی بیٹنگ اور بولنگ فارم میں بھی کمی آئی ہے۔آخر میں ایشون نے کہا کہ مجموعی طور پر پاکستان کی ٹیم مضبوط ہے ، البتہ کمزوریاں بھی ہیں لیکن ان کے پاس سلمان علی آغا جیسے کھلاڑی بھی موجود ہیں جن کا اکثر ذکر نہیں کیا جاتا۔واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہوگا۔پاکستان ایونٹ میں اپنا پہلا میچ ہفتے کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان کے کے امکانات نے کہا کہ ایشون نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا