خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے تناظر میں صوبائی حکومت نے امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی قیادت، وفاقی حکومت، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس میں مجموعی طور پر صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، ملک دشمن عناصر کے خاتمے اور مکمل امن و استحکام کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، معززین اور وفاقی حکومت کے درمیان مشاورت، تعاون اور عملی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

ایپکس کمیٹی نے واضح کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں سمیت اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کے محرکات کی نشاندہی، ان کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ حکومت اور عوام مل کر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنا سکیں۔

حکومت کا ایجنڈا بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مفاد کے ذریعے قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور ترقیاتی، سماجی اور معاشی خدمات کی فراہمی کے ذریعے محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق ایک منظم پروگرام کے تحت ان علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی ہے، وہاں متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ان کی باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں واضح کیا کہ امن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایپکس کمیٹی خیبرپختونخوا دہشتگردی سہیل آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایپکس کمیٹی خیبرپختونخوا دہشتگردی سہیل ا فریدی

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی