منشیات کیس میں سزا یافتہ اڈیالا جیل کا قیدی دورانِ علاج انتقال کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی :اڈیالا جیل میں قید منشیات کیس میں سزا یافتہ قیدی بابر سلیم دورانِ علاج انتقال کر گیا، قیدی کی طبیعت بگڑنے پر اسے فوری طور پر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا اور علاج کے دوران دم توڑ گیا۔
جیل حکام کے مطابق بابر سلیم گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف طبی عوارض میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی، طبیعت زیادہ بگڑنے پر جیل میڈیکل آفیسر کی ہدایت پر قیدی کو بہتر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
ذرائع کے مطابق بابر سلیم کا تعلق ضلع چکوال سے تھا اور وہ تھانہ ڈوڈیال میں درج منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد وہ اڈیالا جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا تھا، انتقال کی اطلاع ملتے ہی جیل انتظامیہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا اور متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدی کی موت طبعی وجوہات کے باعث ہوئی ہے، ضابطے کے مطابق لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا تاکہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کیا جا سکے۔ واقعے کی اطلاع قیدی کے اہلِ خانہ کو بھی دے دی گئی ہے جو راولپنڈی پہنچ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جیل میں قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے میڈیکل اسٹاف موجود ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیدیوں کو فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی جیل انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بابر سلیم کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔
قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد قیدی کی میت ورثا کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ واقعے کے بعد جیل میں سیکیورٹی اور انتظامی امور معمول کے مطابق ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بابر سلیم کے مطابق جیل میں کے بعد
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔