غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، مزید 24 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، جہاں تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 24 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں نے اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود ایک بار پھر انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے، جس میں کم از کم 24 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جن میں دو نومولود بچے، خواتین اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ یہ حملے فوری ردعمل کے طور پر کیے گئے، جن میں تین عسکری رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا۔ اسرائیل کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت انجام دی گئیں جب غزہ میں موجود اس کے فوجیوں پر فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔
غزہ کے شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ زمینی حالات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سیزفائر مؤثر نہیں رہی اور جنگ بندی کا اصل مقصد متاثر ہوا ہے۔
خان یونس کے المواسی علاقے میں بدھ کے روز ایک خیمے کو نشانہ بنانے سے کم از کم تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں ایک پیرا میڈک بھی شامل تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا اور شہریوں کے نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی گئی۔
اسرائیلی حملوں کا دائرہ غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ تک پھیل گیا، جہاں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ صحت حکام کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اب تک اسرائیلی حملوں میں 556 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جس سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات، جن میں غزہ کی فوری تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے، تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
ماہرین انسانی حقوق کے مطابق وقفے وقفے سے جاری حملے نہ صرف غزہ میں انسانی المیے کو مزید بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سیزفائر کی ساکھ اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان دیرپا امن کی کوششوں کو بھی شدید چیلنج فراہم کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔