جسٹس اروند کمار اور پی بی کی بنچ نے ورلے نے کہا کہ وانگچک کی ہیلتھ رپورٹ ٹھیک نہیں ہے اور مرکز کیطرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کو اس معاملے میں حکومت سے تجویز لینی چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے پوچھا کہ کیا وہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی خراب صحت کے پیش نظر ان کی حراست پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔ جسٹس اروند کمار اور پی بی کی بنچ نے ورلے نے کہا کہ وانگچک کی ہیلتھ رپورٹ ٹھیک نہیں ہے اور مرکز کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کو اس معاملے میں حکومت سے تجویز لینی چاہیئے۔ عدالت نے کہا کہ دلائل، جوابی دلائل اور قانونی پہلوؤں کے علاوہ عدالت کا ایک افسر ہونے کے علاوہ اس (صحت) پر بھی غور کریں۔ وانگچک کی نظر بندی کا حکم تقریباً پانچ ماہ قبل 26 ستمبر 2025ء کو جاری کیا گیا تھا۔

بنچ نے کہا کہ زیر حراست شخص کی صحت پر غور کرتے ہوئے ہم نے جو رپورٹیں دیکھی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ عمر سے متعلق ایشوز کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہیں۔ کیا حکومت کے دوبارہ غور کرنے کا کوئی امکان ہے۔ نٹراج نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے تجاویز طلب کریں گے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ وانگچک گذشتہ سال لیہ تشدد کے لئے ذمہ دار تھے، جس میں چار افراد ہلاک اور 161 لوگ زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر ان کی اشتعال انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی نے یہ سب کچھ کیا۔ فعال شرکت ضروری نہیں ہے، صرف لوگوں کے گروپ کو متاثر کرنا ہی کافی ہے۔

نٹراج نے کہا کہ وانگچک کی نظر بندی کا حکم تین ​​اکتوبر 2025ء کو منظور کیا گیا تھا، اور منظوری کے حکم کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو بھی عدالت میں دلائل جاری رہیں گے۔ سپریم کورٹ وانگچک کی بیوی گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر ایک درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جس میں سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان کی حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔ وانگچک کو پُرتشدد مظاہروں کے دو دن بعد 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا، جب لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبے پر مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹھیک نہیں ہے وانگچک کی کیا گیا

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع