کشمیر کے سماجی رہنما سونم وانگچک کی صحت جیل میں ٹھیک نہیں ہے، سپریم کورٹ آف انڈیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
جسٹس اروند کمار اور پی بی کی بنچ نے ورلے نے کہا کہ وانگچک کی ہیلتھ رپورٹ ٹھیک نہیں ہے اور مرکز کیطرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کو اس معاملے میں حکومت سے تجویز لینی چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے پوچھا کہ کیا وہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی خراب صحت کے پیش نظر ان کی حراست پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔ جسٹس اروند کمار اور پی بی کی بنچ نے ورلے نے کہا کہ وانگچک کی ہیلتھ رپورٹ ٹھیک نہیں ہے اور مرکز کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کو اس معاملے میں حکومت سے تجویز لینی چاہیئے۔ عدالت نے کہا کہ دلائل، جوابی دلائل اور قانونی پہلوؤں کے علاوہ عدالت کا ایک افسر ہونے کے علاوہ اس (صحت) پر بھی غور کریں۔ وانگچک کی نظر بندی کا حکم تقریباً پانچ ماہ قبل 26 ستمبر 2025ء کو جاری کیا گیا تھا۔
بنچ نے کہا کہ زیر حراست شخص کی صحت پر غور کرتے ہوئے ہم نے جو رپورٹیں دیکھی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ عمر سے متعلق ایشوز کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہیں۔ کیا حکومت کے دوبارہ غور کرنے کا کوئی امکان ہے۔ نٹراج نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے تجاویز طلب کریں گے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ وانگچک گذشتہ سال لیہ تشدد کے لئے ذمہ دار تھے، جس میں چار افراد ہلاک اور 161 لوگ زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر ان کی اشتعال انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی نے یہ سب کچھ کیا۔ فعال شرکت ضروری نہیں ہے، صرف لوگوں کے گروپ کو متاثر کرنا ہی کافی ہے۔
نٹراج نے کہا کہ وانگچک کی نظر بندی کا حکم تین اکتوبر 2025ء کو منظور کیا گیا تھا، اور منظوری کے حکم کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو بھی عدالت میں دلائل جاری رہیں گے۔ سپریم کورٹ وانگچک کی بیوی گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر ایک درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جس میں سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان کی حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔ وانگچک کو پُرتشدد مظاہروں کے دو دن بعد 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا، جب لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبے پر مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹھیک نہیں ہے وانگچک کی کیا گیا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔