اسلام آباد(نیوزڈیسک) جنگِ عظیم اوّل کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جنگِ عظیم اوّل (WWI) کی تاریخی یادگار سے متعلق پھیلنے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یادگار کو مسمار نہیں کیا گیا بلکہ اسے تحفظ اور بہتر دیکھ بھال کے لیے ایک موزوں، محفوظ اور عوامی رسائی والے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سی ڈی اے کے مطابق یہ اقدام مسماری نہیں بلکہ تحفظ کے ذریعے منتقلی (Preservation through Relocation) ہے۔ یادگار کو ماہرین کی نگرانی میں تحفظاتی اصولوں کے تحت نہایت احتیاط سے کھولا گیا ہے، جبکہ اصل اینٹیں اور تعمیراتی مواد محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ اسے اسی اصل حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یادگار وقت کے ساتھ خستہ حال ہو چکی تھی، جس کے باعث اس کی باوقار دیکھ بھال، تحفظ اور طویل المدتی نگہداشت کے لیے مقام کی تبدیلی ناگزیر تھی۔سی ڈی اے نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ نوٹیفائیڈ ورثہ فہرست میں شامل نہیں، تاہم اس کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ سے مشاورت کی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ یادگار کے قانونی وارث کی باقاعدہ رضامندی بھی حاصل کی گئی، جہاں عظیم پوتے کی جانب سے حلف نامہ / این او سی جمع کرایا گیا، جس کے بعد یادگار کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔سی ڈی اے کی نگرانی میں یادگار کو ریہارا گاؤں کے قریب نادرن بائی پاس کے راؤنڈ اباؤٹ کے نزدیک ایک زیادہ محفوظ اور نمایاں مقام پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، تاکہ عوام کو آسان رسائی حاصل ہو اور تاریخی شخصیت کو بہتر انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔اتھارٹی کے مطابق ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی عمارتوں یا یادگاروں کی منتقلی ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ عمل ہے، جس کی مثالیں امریکہ میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس، لندن میں ماربل آرچ اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرِ نو تعمیر کی صورت میں موجود ہیں۔سی ڈی اے نے زور دیا کہ یہ تاریخی یادگار بدستور سب غلام علی کی جنگِ عظیم اوّل میں جرات و بہادری اور انہیں ملنے والے ملٹری کراس کو خراجِ تحسین پیش کرتی رہے گی، اور اس کی تاریخی حیثیت مکمل طور پر برقرار ہے۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ یہ اقدام ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک مثال ہے۔سی ڈی اے نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کریں، جبکہ سنسنی خیز اور گمراہ کن خبروں کو بغیر تحقیق شائع کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے، جسے دانستہ غلط معلومات اور جعلی خبروں کے طور پر دیکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ یادگار یادگار کو عظیم او ل سی ڈی اے کیا جا

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل