اسلام آباد ، جنگ عظیم اول کی یادگار کی محفوظ منتقل کا شاندار منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) کے مشترکہ رہائشی منصوبے ’مارگلہ انکلیو‘ میں تعمیراتی کاموں کے دوران پہلی عالمی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں بنائی گئی یادگار کو محفوظ انداز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے برعکس یادگار مسمار نہیں کی گئی بلکہ قانونی اور ماہر آثار قدیمہ کی نگرانی میں اسے نئے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ تاریخی حیثیت برقرار رہے اور ساتھ ہی رہائشی منصوبے کی ترقی بھی ممکن ہو۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں یادگارِ اقبال
یادگار کے اردگرد ایک چھوٹا پارک نما علاقہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔ یادگار پر فوجیوں کے نام اور ان کی خدمات درج ہیں، اور اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اسے قومی ورثہ کے طور پر محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
ریٹائرڈ فوجی افسران بشمول میجر جنرل علی حامد نے بھی متعلقہ حکام اور وزارت قومی ورثہ کو خطوط لکھ کر یادگار کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل پوٹھوہار کے علاقوں میں کئی یادگاریں تعمیر کی گئی تھیں جو فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں بنائی گئی تھیں، اور یہ یادگار بھی ان میں سے ایک ہے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں چور گاندھی کا مجسمہ لے اُڑے، پاؤں چھوڑ گئے
سی ڈی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یادگار کی حفاظت اور محفوظ منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یادگار کی اصل حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔ ماہرین آثار قدیمہ اور حکومت کے اعلیٰ حکام بھی اس منتقلی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ یادگار کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت برقرار رہے اور رہائشی منصوبے کی ترقی بھی متاثر نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔