شادی سے پہلے ہی مرونل ٹھاکر کے حاملہ ہونے کی افواہیں، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بالی ووڈ اداکارہ مرونل ٹھاکر کی دھنوش سے شادی سے قبل وائرل ہونے والی ویڈیو نے اداکارہ کے حاملہ ہونے کی افواہیں پھیلا دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد ہر طرف یہی سوال گردش کررہا ہے کہ کیا بالی ووڈ کی اسٹار مرونل ٹھاکر واقعی شادی سے ایک ہفتہ قبل حاملہ ہوگئی ہیں؟ ویڈیو میں انہیں حاملہ انداز میں دکھایا گیا ہے جس نے مداحوں میں شدید تجسس اور بحث کو جنم دیا ہے۔
تاہم حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ ویڈیو ان کی آنے والی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے شوٹنگ کے دوران کا منظر ہے، جس میں مرونل نے ایک خاص کردار کے لیے حاملہ گیٹ اپ اپنایا ہے۔
ورون دھون کے ساتھ فلم کے سیٹ پر بننے والی اس جھلک نے غلط فہمیوں کو ہوا دی، جس پر مداح حیرت اور دلچسپی کے ملا جلا ردِ عمل دے رہے ہیں۔
Is she pregnant before marriage? Dhanush bro what have you done.
مرونل ٹھاکر کو ان کی اداکاری اور اسٹائل کے لیے کافی سراہا جاتا ہے، اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہر خبر فوری طور پر وائرل ہو جاتی ہے۔ اس وقت فلمی حلقوں میں ان کی شادی کے حوالے سے بھی افواہیں گردش کر رہی تھیں، خاص طور پر ساؤتھ اسٹار دھنوش کے ساتھ ان کے تعلقات کے باعث، جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ رواں ماہ شادی کررہے ہیں۔
Is she pregnant before marriage? Dhanush bro what have you done. pic.twitter.com/teu2OWqUci
— Aditya (@Warlock_Aditya) February 5, 2026اداکارہ اس وقت کئی فلموں میں مصروف ہیں، جن میں ’’دو دیوانے شہر میں‘‘ بھی شامل ہے، جس کی ریلیز 20 فروری 2026 کو متوقع ہے، اور اسی پروجیکٹ کی پروموشن کے دوران ان کے اور سدھانت چتور ویدی کے درمیان ہلکے پھلکے مذاق نے بھی عوامی دلچسپی کو بڑھایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مرونل ٹھاکر
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور