ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا،مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا،مولانا فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا ہے۔ 5 فروری ظلم کے خلاف جدوجہد، حق کی حمایت اور آزادی کی تحریک کا دن ہے۔ انصاف کے نام پر بنی اقوام متحدہ کشمیر کے لیے کب حرکت میں آئے گی؟۔
یومِ یکجہتی کشمیر پر اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد میں بھارت کا منفی رویہ اور ہٹ دھرمی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ کشمیر میں استصوابِ رائے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی جانب سے 1948 اور 1949 کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ تسلط کا عالمی برادری نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا ہے۔ 5 فروری ظلم کے خلاف جدوجہد، حق کی حمایت اور آزادی کی تحریک کا دن ہے۔ انصاف کے نام پر بنی اقوام متحدہ کشمیر کے لیے کب حرکت میں آئے گی؟۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ بھارت کے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں۔ عالمی طاقتیں بھارتی ظلم پر کب بولیں گی؟۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعظم شہباز شریف 13سے 15فروری کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے جرمنی کا دورہ کرینگے وزیر اعظم شہباز شریف 13سے 15فروری کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے جرمنی کا دورہ کرینگے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان 28معاہدوں ، مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ڈبلیو ڈبلیو آئی یادگار کی مسماری کا دعوی بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، سی ڈی اے اگر وزیراعلی کا 9مئی میں نام ہے تو حکومت ایکشن لے،گورنر فیصل کریم کنڈی ٹی20ورلڈکپ تنازع، اظہارِ یکجہتی پر شکریہ پاکستان، بنگلہ دیشی وزیر کھیل کا بیان بسنت پر موٹرسائیکل پر پابندی نہیں، سیفٹی راڈ نہ لگایا تو بائیک بند ہوگی، وزیراعلیٰ مریم نواز کی شہریوں سے گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست مولانا فضل الرحمان نے کہا اقوام متحدہ استعمال کیا نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔