رمضان سے قبل ہی اشیائےخورونوش کی قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: رمضان المبارک سے قبل ہی منافع خوروں نے عوام کو کاٹنے کے لیے چھریاں اور دانت تیز کرلیے ہیں،ملک بھر میں اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں یک دم ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔
سبزی، پھلوں اور اجناس کی قیمتوں میں حالیہ چند روز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تیل، گھی، بیسن، ٹماٹر، آلو، روٹی، انڈے، کیلا، سیب سمیت دیگر اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔
اسلام آباد میں 4 دن میں ٹماٹر 40 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا ہے اور اب 80 کے بجائے 120 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ آلو کی فی کلو قیمت بھی 40 سے بڑھ کر 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔
بیسن کی فی کلو قیمت 320 سے بڑھ کر 350 روپے کر دی گئی ہے۔ کوکنگ آئل اور گھی بھی 20 روپے کلو مہنگا ہو گیا ہے۔
درجہ اول گھی اور تیل 580 روپے سے بڑھ کر 600 جب کہ درجہ سوم گھی اور تیل کی قیمت 510 سے بڑھ کر 530 روپے کلو ہو گئی ہے۔
روٹی اور پراٹھے کی قیمت میں بھی اچانک بڑا اضافہ ہو گیا ہے اور روٹی، نان پانچ روپے اضافے کے بعد 25 روپے کی ہو گئی ہے۔
خمیری نان 25 سے بڑھا کر 30 روپے جب کہ کلچہ 35 روپے کا کر دیا گیا ہے۔
تندوری پراٹھا اور روغنی نان کی قیمت 50 سے بڑھا کر 60 روپے کر دی گئی ہے۔
ہوٹلوں میں چائے بھی مہنگی ہو گئی ہے اور اب ایک کپ چائے 60 روپے کے بجائے 70 روپے کی فروخت کی جا رہی ہے۔
چار روز میں دیسی انڈے بھی 30 روپے درجن مہنگے ہو گئے ہیں اور اب دیسی براﺅن انڈے 470 سے بڑھا کر 500 روپے درجن میں بیچے جا رہے ہیں۔
اسی طرح درجہ سوم سیب 150 سے بڑھ کر 200 روپے کلو اور درجہ سوم کیلا 140 روپے سے بڑھ کر 180 روپے درجن ہو گیا ہے۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منافع خوروں کو لگا م دے اور غریبوں کے حال پر رحم کھائے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہو گیا ہے سے بڑھ کر ہو گئی ہے کی قیمت فی کلو
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔