پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ اہم خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: دنیا بھر کے مسلمان استقبال رمضان کی تیاریاں کر رہے ہیں پاکستان میں پہلے روزے سے متعلق نئی پیشگوئی سامنے آئی ہے۔
شعبان کا مہینہ اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان اب استقبال رمضان کی تیاری کر رہے ہیں، ساتھ ہی یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ چاند کب نظر آئے گا اور پہلا روزہ کب ہوگا۔
پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند کب نظر آئے گا اور پہلا روزہ کب ہوگا؟ اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے چاند سے متعلق اپنی تازہ پیشگوئی جاری کر دی ہے۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے شخص کو عمر قید
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں ماہ شعبان 29 روز کا ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کا چاند بدھ 18 فروری کو نظر آنے اور پہلا روزہ جمعرات 19 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔
چاند کی پیدائش کا وقت
محکمہ موسمیات کے مطابق رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش 17 فروری کو شام 5 بج کر 1 منٹ پر ہو گی۔ اگلے روز اس کی عمر اور موسم کی صورتحال رویت کے لیے موزوں دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث چاند نظر آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 18 فروری کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔ اسی بنیاد پر یکم رمضان المبارک 19 فروری کو ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 18 فروری کو کراچی میں چاند کی عمر تقریباً 26 گھنٹے ہو گی۔ اسی روز کراچی میں سورج غروب ہونے کا وقت 6 بج کر 25 منٹ جب کہ چاند سات بج کر 24 منٹ پر غروب ہوگا، جو رویت کے لیے موزوں دورانیہ سمجھا جاتا ہے۔
خواتین کیلئے بلاسود کاروباری قرضوں کا بڑا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رمضان المبارک محکمہ موسمیات پاکستان میں پہلا روزہ فروری کو
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔