مادھوری کی نقل میں بولڈ لباس میں رقص کرنے پر امر خان پر تنقید، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستانی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور رائٹر امر خان ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، مگر اس بار وجہ ان کی اداکاری نہیں بلکہ ایک ڈانس ویڈیو بنی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
امر خان نے بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے مشہور گانے ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘ پر ڈانس کیا، جس کی ویڈیو انہوں نے ٹک ٹاک پر شیئر کی۔ ویڈیو میں انہوں نے برنٹ اورنج اور شوخ گلابی رنگ کا لہنگا اور مختصر چولی پہنی ہوئی تھی، جو ان کے حالیہ شادی کے لک میں سے ایک بتایا جارہا ہے۔
امر خان نے کیپشن میں لکھا کہ وہ ہمیشہ سے مادھوری ڈکشٹ کی مداح رہی ہیں، خاص طور پر ان کے لہنگا چولی اسٹائل کی۔ انہوں نے لکھا، ’’ایک برنٹ اورنج لہنگا چولی ہمیشہ کے لیے مادھوری فین ہونے کا احساس دلاتا ہے۔‘‘
تاہم ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی افراد نے ان کے لباس کو حد سے زیادہ بولڈ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’بہن، پاکستان آپ کی اس صلاحیت کو نہیں پہچان رہا، بھارت چلی جائیں اور اس سے بھی زیادہ بولڈ کپڑے پہنیں۔‘‘ ایک اور تبصرہ تھا، ’’سب کو کیا ہو گیا ہے، سب ہی برہنہ ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘
کچھ صارفین نے پاکستانی اداکاراؤں کے فیشن کے انتخاب پر بھی سوال اٹھائے۔ ایک نے لکھا، ’’سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان میں اداکارائیں بولڈ بننے کی اتنی شوقین کیوں ہیں۔‘‘ جبکہ ایک اور نے کہا، ’’اگر مکمل لباس منتخب کیا جاتا تو وہ زیادہ خوبصورت لگتیں۔‘‘ بعض تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ پاکستانی اداکاراؤں میں اب شرم باقی نہیں رہی۔
امر خان کی یہ ویڈیو جہاں ایک طرف مداحوں کے ایک حلقے میں پسند کی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب تنقید اور بحث کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔