اسلام ٹائمز: امامِ زمانہؑ کا انتظار محض وقت کا تسلسل نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے؛ ایک نسل کی تربیت ہے، مستقبل کی تیاری ہے، جو نفس کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے، تاکہ عالم کو پاکیزہ کیا جا سکے۔ اے منتظرِ عالم، اے منجی بشر، اے حقیقتِ منتظر، اے دلربا، اے معدنِ حکمت و مسکنِ برکت۔۔۔۔۔۔۔ اے شاہدِ عالَم، اے رازِ ہستی، اے عصمتِ کبریٰ، اے جمالِ یوسف، اے رہبرِ اعظم۔۔۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے خورشید تاباں، اے مھدیِ دوراں۔۔۔ اب تھک گئے ہیں ہم غیروں کے گِلوں سے، اپنوں کے شبہوں سے، وقت کے طول سے اور ظلمت کے دور سے۔ بس اب پکارتی ہے ہر زباں۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔ تحریر: ساجد علی گوندل
میں منتظر ہوں۔۔۔۔ نہیں، میں ہی انتظار ہوں۔ انتظار محض وقت کا توقف نہیں، بلکہ روح کی مسافت ہے؛ ایک ایسا کمالی سفر جو کسی چھپے آفتاب کے طلوع کی بشارت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ انتظار اپنے ناتمام ہونے سے تمام ہونے تک کے سفر کی بے نام آرزو ہے۔۔۔۔۔۔ انسانیت کے کمال کی امید۔۔۔۔۔۔۔ شکستہ ضمیر کی دبی ہوئی آواز اور اُس عدلِ موعود کی پیاس ہے، جو تاریخ کے ماتھے پر ایک مؤخر شدہ وعدے کی طرح نقش ہے۔ انتظار کیلنڈر کے اوراق میں مقید نہیں؛ یہ اعداد کے سلسلے سے نکل کر گھڑی کی سوئیوں کو بے معنی کر دیتا ہے اور میرے سامنے ایک سوال بن کر ابھرتا ہے: کیا میں اُس کے لیے تیار ہوں، جس کا منتظر ہوں۔؟
میرے لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ میں وقت کے دھارے میں بہہ رہا ہوں یا وقت میرے اندر ٹھہرا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ امامِ زمانہؑ کے انتظار نے زندگی کو دن اور رات کی محض گردش سے نکال کر ایک روحانی کیفیت میں بدل دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسی کیفیت جو سانسوں میں تحلیل ہے اور شعور میں موجزن۔۔۔۔۔۔ انتظار صرف آنکھوں کی دہلیز پر کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ صفحہِ دل کو منور کرنے کا نام ہے؛ ایسا نور جو تاریکی کو کُوستا نہیں، بلکہ خود اندھیروں میں راستے تراشتا ہے۔ جب میں خود کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک شخص نہیں، ایک سوال دکھائی دیتا ہے: کیا میں اس آنے والے کے لیے تیار ہوں۔؟ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کب آئے گا۔۔۔۔؟ سوال یہ ہے کہ میں کب بدلوں گا۔۔۔۔۔۔؟
انتظار دراصل ذات کی ہجرت ہے۔۔۔۔ غفلت سے شعور کی طرف۔۔۔۔۔ جمود سے حرکت کی طرف۔۔۔۔۔ خودی سے بندگی کی طرف۔۔۔۔۔ یہ انتظار ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف محض نفرت کافی نہیں، بلکہ عدل کے قیام کے لیے کردار لازم ہے اور بتاتا ہے کہ دعا اگر راستہ نہ بنے تو محض صدا رہ جاتی ہے۔ میرا ہر دن ایک امتحان ہے، ہر لمحہ ایک میزان۔۔۔۔ جس میں میرے عمل تولے جاتے ہیں۔ اگر میں جھوٹ کے ساتھ کھڑا ہوں تو انتظار کھوکھلا ہے۔۔۔۔۔ اور اگر سچ کے ساتھ ہوں تو انتظار زندہ، بیدار اور مؤثر ہے۔۔۔۔۔۔ انتظار مجھے خاموشی سکھاتا ہے، بزدلی نہیں۔۔۔۔۔ صبر سکھاتا ہے، جمود نہیں۔۔۔۔ امید دیتا ہے، خوش فہمی نہیں۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا توازن ہے، جہاں دل میں یقین کا چراغ روشن ہوتا ہے اور ہاتھ میں عمل کی مشعل۔۔۔۔۔
میں اور انتظار۔۔۔ اب دو الگ وجود نہیں۔۔۔۔۔ جب بھی اپنے باطن میں جھانکتا ہوں تو ضمیر پکارتا ہے: خود بدلو۔۔۔۔۔ تاکہ بدل سکو۔۔۔۔۔ امامِ زمانہؑ کا انتظار محض وقت کا تسلسل نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے؛ ایک نسل کی تربیت ہے، مستقبل کی تیاری ہے، جو نفس کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے، تاکہ عالم کو پاکیزہ کیا جا سکے۔ اے منتظرِ عالم، اے منجی بشر، اے حقیقتِ منتظر، اے دلربا، اے معدنِ حکمت و مسکنِ برکت۔۔۔۔۔۔۔ اے شاہدِ عالَم، اے رازِ ہستی، اے عصمتِ کبریٰ، اے جمالِ یوسف، اے رہبرِ اعظم۔۔۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے خورشید تاباں، اے مھدیِ دوراں۔۔۔ اب تھک گئے ہیں ہم غیروں کے گِلوں سے، اپنوں کے شبہوں سے، وقت کے طول سے اور ظلمت کے دور سے۔ بس اب پکارتی ہے ہر زباں۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :