Islam Times:
2026-06-03@02:11:24 GMT

میں اور انتظار

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

میں اور انتظار

اسلام ٹائمز: امامِ زمانہؑ کا انتظار محض وقت کا تسلسل نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے؛ ایک نسل کی تربیت ہے، مستقبل کی تیاری ہے، جو نفس کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے، تاکہ عالم کو پاکیزہ کیا جا سکے۔ اے منتظرِ عالم، اے منجی بشر، اے حقیقتِ منتظر، اے دلربا، اے معدنِ حکمت و مسکنِ برکت۔۔۔۔۔۔۔ اے شاہدِ عالَم، اے رازِ ہستی، اے عصمتِ کبریٰ، اے جمالِ یوسف، اے رہبرِ اعظم۔۔۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے خورشید تاباں، اے مھدیِ دوراں۔۔۔ اب تھک گئے ہیں ہم غیروں کے گِلوں سے، اپنوں کے شبہوں سے، وقت کے طول سے اور ظلمت کے دور سے۔ بس اب پکارتی ہے ہر زباں۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔ تحریر: ساجد علی گوندل

میں منتظر ہوں۔۔۔۔ نہیں، میں ہی انتظار ہوں۔ انتظار محض وقت کا توقف نہیں، بلکہ روح کی مسافت ہے؛ ایک ایسا کمالی سفر جو کسی چھپے آفتاب کے طلوع کی بشارت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ انتظار اپنے ناتمام ہونے سے تمام ہونے تک کے سفر کی بے نام آرزو ہے۔۔۔۔۔۔ انسانیت کے کمال کی امید۔۔۔۔۔۔۔ شکستہ ضمیر کی دبی ہوئی آواز اور اُس عدلِ موعود کی پیاس ہے، جو تاریخ کے ماتھے پر ایک مؤخر شدہ وعدے کی طرح نقش ہے۔ انتظار کیلنڈر کے اوراق میں مقید نہیں؛ یہ اعداد کے سلسلے سے نکل کر گھڑی کی سوئیوں کو بے معنی کر دیتا ہے اور میرے سامنے ایک سوال بن کر ابھرتا ہے: کیا میں اُس کے لیے تیار ہوں، جس کا منتظر ہوں۔؟

میرے لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ میں وقت کے دھارے میں بہہ رہا ہوں یا وقت میرے اندر ٹھہرا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ امامِ زمانہؑ کے انتظار نے زندگی کو دن اور رات کی محض گردش سے نکال کر ایک روحانی کیفیت میں بدل دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسی کیفیت جو سانسوں میں تحلیل ہے اور شعور میں موجزن۔۔۔۔۔۔ انتظار صرف آنکھوں کی دہلیز پر کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ صفحہِ دل کو منور کرنے کا نام ہے؛ ایسا نور جو تاریکی کو کُوستا نہیں، بلکہ خود اندھیروں میں راستے تراشتا ہے۔ جب میں خود کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک شخص نہیں، ایک سوال دکھائی دیتا ہے: کیا میں اس آنے والے کے لیے تیار ہوں۔؟ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کب آئے گا۔۔۔۔؟ سوال یہ ہے کہ میں کب بدلوں گا۔۔۔۔۔۔؟

انتظار دراصل ذات کی ہجرت ہے۔۔۔۔ غفلت سے شعور کی طرف۔۔۔۔۔ جمود سے حرکت کی طرف۔۔۔۔۔ خودی سے بندگی کی طرف۔۔۔۔۔ یہ انتظار ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف محض نفرت کافی نہیں، بلکہ عدل کے قیام کے لیے کردار لازم ہے اور بتاتا ہے کہ دعا اگر راستہ نہ بنے تو محض صدا رہ جاتی ہے۔ میرا ہر دن ایک امتحان ہے، ہر لمحہ ایک میزان۔۔۔۔ جس میں میرے عمل تولے جاتے ہیں۔ اگر میں جھوٹ کے ساتھ کھڑا ہوں تو انتظار کھوکھلا ہے۔۔۔۔۔ اور اگر سچ کے ساتھ ہوں تو انتظار زندہ، بیدار اور مؤثر ہے۔۔۔۔۔۔ انتظار مجھے خاموشی سکھاتا ہے، بزدلی نہیں۔۔۔۔۔ صبر سکھاتا ہے، جمود نہیں۔۔۔۔ امید دیتا ہے، خوش فہمی نہیں۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسا توازن ہے، جہاں دل میں یقین کا چراغ روشن ہوتا ہے اور ہاتھ میں عمل کی مشعل۔۔۔۔۔

میں اور انتظار۔۔۔ اب دو الگ وجود نہیں۔۔۔۔۔ جب بھی اپنے باطن میں جھانکتا ہوں تو ضمیر پکارتا ہے: خود بدلو۔۔۔۔۔ تاکہ بدل سکو۔۔۔۔۔ امامِ زمانہؑ کا انتظار محض وقت کا تسلسل نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے؛ ایک نسل کی تربیت ہے، مستقبل کی تیاری ہے، جو نفس کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے، تاکہ عالم کو پاکیزہ کیا جا سکے۔ اے منتظرِ عالم، اے منجی بشر، اے حقیقتِ منتظر، اے دلربا، اے معدنِ حکمت و مسکنِ برکت۔۔۔۔۔۔۔ اے شاہدِ عالَم، اے رازِ ہستی، اے عصمتِ کبریٰ، اے جمالِ یوسف، اے رہبرِ اعظم۔۔۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے خورشید تاباں، اے مھدیِ دوراں۔۔۔ اب تھک گئے ہیں ہم غیروں کے گِلوں سے، اپنوں کے شبہوں سے، وقت کے طول سے اور ظلمت کے دور سے۔ بس اب پکارتی ہے ہر زباں۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔۔۔۔۔ آ مہدیِ دوراں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہوں تو ہے اور

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی