احتجاج کو ایک طرف رکھیں، بانی کی صحت ایک طرف ہے، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ میرا پہلے دن سے یہی موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر ایک فیصد بھی رسک نہیں لینا چاہیئے۔
جمعرات کو خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ احتجاج کو ایک طرف رکھیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک طرف ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ 99 فیصد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہے، باقی ایشو بعد میں۔
علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ آپ بھول جائیں کہ وہ ہمارے چیئرمین ہیں، کم سے کم اس ملک کے سابق وزیراعظم تو ہیں۔
دریں اثنا پی ٹی آئی کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا اگر حکومت کوئی قانون فالو کرتی تو اس میٹنگ کی ضرورت نہ پڑتی۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم جیل میں ہیں اور آپ ان کی بیماری چھپانے کے بعد کسی سے ملنے بھی نہیں دے رہے، ہمیں میسج ملا تھا کہ میٹنگ میں ون پوائنٹ ایجنڈا ڈسکس کرنا ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ کل سہیل آفریدی نے کے پی میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا تھا، بانی پی ٹی آئی کو ان کی فیملی اور ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا کہ ایک طرف کی صحت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔