بسنت کے تہوار کو برقرار رکھنے کےلیےعوام کوقواعد و ضوابط پرعمل کرنا ہوگا،عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر عوام بسنت کے تہوار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے طے قوائط و ضوابط پر ہر صورت میں عمل کرنا ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بسنت ایک خوش رنگ اور ثقافتی تہوار ہے، تاہم ماضی میں دھاتی ڈور کے استعمال کے باعث اسے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں، مگر چند افراد کی لاپروائی کے باعث ماضی میں کروڑوں لوگ اس تہوار کی خوشیوں سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موٹرسائیکلوں پر تقریباً 10 لاکھ سیفٹی راڈز نصب کیے گئے ہیں، جبکہ بسنت کے تین دنوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا ہے۔ اس دوران میٹرو، اورنج لائن اور بسوں میں سفر بغیر کرائے کے ہوگا تاکہ شہری موٹرسائیکل کے استعمال سے گریز کریں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق بسنت کے اعلان پر عوامی جوش و خروش حکومت کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہا اور اب تک سوا ارب روپے کی پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کے موقع پر دنیا بھر سے لوگ لاہور کا رخ کر رہے ہیں، اسی لیے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ دھاتی ڈور کے استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق چھتوں کے استعمال کے لیے این او سی جاری کیے جا رہے ہیں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی، شہریوں کو بھی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنے رہنما کی تصویر پتنگ پر لگانا چاہے تو اس پر اعتراض نہیں، کیونکہ پتنگ کٹنے کے بعد وہ کسی نالی یا گٹر میں ہی جا گرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے استعمال انہوں نے بسنت کے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔